.

سعودی مارکیٹ غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اپنی اسٹاک مارکیٹ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے کھول دی ہے اور اب منظور شدہ غیرملکی سرمایہ کار مملکت میں سرمایہ کاری کرسکیں گے۔

سعودی عرب کی اسٹاک ایکچینج کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس کے مطابق اہل غیرملکی سرمایہ کار اب لسٹڈ حصص کی خریداری کرسکتے ہیں۔اس نوٹس کے مطابق غیرملکی بنک ،بروکر ہاؤس ،فنڈ مینجر اور خلیج سے باہر کام کرنے والی انشورنس کمپنیاں اب سعودی عرب میں براہ راست سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔

سعودی عرب کی اسٹاک مارکیٹ کا حجم 532 ارب ڈالرز ہے اور یہ عرب دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب اس کے کھلنے سے بھاری غیرملکی سرمایہ کاری سعودی عرب میں آئے گی۔

سعودی عرب نے گذشتہ سال اپنی معیشت کو تیل مرتکز کے بجائے متنوع بنانے کے لیے اسٹاک مارکیٹ کو غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ سال 2015ء کی پہلی ششماہی سے غیرملکی سرمایہ کار سعودی کمپنیوں کے حصص خرید کرسکیں گے۔

آسٹریلیا کے تجارت اور سرمایہ کاری کے وزیر اینڈریو راب نے العربیہ نیوز کے لیے لکھے گئے ایک خصوصی مضمون میں سعودی عرب کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور ان اقتصادی اصلاحات پر سعودی عرب کے معاشی پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ اس سے آسٹریلیا اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور مالیاتی شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

غیرملکی سرمایہ کار کی اہلیت

سعودی عرب میں غیرملکی سرمایہ کاری کے خواہاں سرمایہ کاروں کے لیے کڑی شرائط وضع کی گئی ہیں۔ کوالیفائیڈ غیرملکی سرمایہ کار کے طور پر رجسٹر ہونے کے خواہاں غیرملکی ادارے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے زیر انتظام 18.75 ارب ریال (پانچ ارب ڈالرز) کا سرمایہ رہا ہو۔

غیرملکی سرمایہ کار ادارہ کسی سعودی کمپنی کے پانچ فی صد سے زیادہ نہیں لے سکتا ہے۔وہ اور اس کے کلائنٹس اکٹھے مل کر کسی کمپنی کے بیس فی صد سے زیادہ حصص نہیں خرید سکیں گے۔

اسی ماہ کے آغاز میں یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب کی پانچ لسٹڈ کمپنیوں کے دروازے غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے نہیں کھولے جائیں گے۔یہ کمپنیاں جبل عمر ڈویلپمنٹ ،تائبا ہولڈنگ کمپنی ،نالج اکنامک سٹی ،نیشنل شپنگ کمپنی آف سعودی عرب اور مکہ کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی ہیں۔اس وقت سعودی اسٹاک ایکچسینج میں قریباً ایک سو ستر کمپنیوں کا اندراج ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اس وقت دنیا میں تیل کا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے،وہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں سب سے بڑی اور دنیا کی انیسویں معیشت ہے۔مالی سال 2014ء کے دوران اس کی مجموعی قومی پیداوار 753 ارب ڈالرز رہی تھی۔