.

آسٹریا : 10 افراد کو شام میں جنگجوؤں سے روابط پر سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا کی ایک عدالت نے دس مشتبہ افراد کو شام میں اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ روابط استوار کرنے کے الزام میں تین سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

عدالت کی خاتون ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ چیچین باشندوں کے ایک گروپ کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کے الزام میں گرفتار ایک ترک کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عدالت نے دوسرے آٹھ مشتبہ افراد کو چونتیس ماہ تک قید کا حکم دیا ہے۔

ایک نوعمر لڑکے کو گذشتہ سال اگست میں گرفتاری کے وقت نابالغ ہونے کی بنا پر صرف ایک سال معطل قید کا حکم دیا گیا ہے۔ آسٹروی پراسیکیوٹرز نے عدالت سے ان میں ایک شخص کو ایک دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کے الزام میں دس سال قید سنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ سزائیں حتمی نہیں ہیں اور تمام مدعاعلیہان کو ان کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔اپیل عدالت ان سزاؤں کو ختم کرسکتی ہے اور برقرار بھی رکھ سکتی ہے۔ان میں سے بعض مدعاعلیہان نے مقدمے کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا ہے کہ وہ صرف چھٹی گزارنے کے لیے شام گئے تھے یا وہ ایک اسلامی ملک میں رہنا چاہتے تھے۔

آسٹریا کی ایک عدالت نے گذشتہ ماہ ایک چودہ سالہ لڑکے کو دہشت گردی کے الزام میں قصور وار ہونے پر دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔اس لڑکے نے اپنے پلے اسٹیشن گیمز پر بم کی تیاری کا منصوبہ ڈاؤن لوڈ کیا تھا اور اس نے عدالت میں دہشت گردی سے متعلق الزامات کا اقرار کیا تھا۔

آسٹروی وزارت داخلہ کے مطابق ملک سے دو سو سے زیادہ افراد لڑائی میں حصہ لینے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں گئے ہیں۔ان میں قریباً تیس لڑتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ستر واپس آچکے ہیں۔آسٹروی حکومت نے مشتبہ جنگجوؤں اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے ملک میں سخت قوانین متعارف کرائے ہیں اور ان مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے قید وبند کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔