.

لیبیا :انصار الشریعہ نے مختاربلمختار کی ہلاکت کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جنگجو گروپ انصار الشریعہ نے الجزائر سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے لیڈر مختار بلمختار کی امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی تردید کردی ہے۔

انصارالشریعہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کے مشرق میں امریکا کے فضائی حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں مختاربلمختار شامل نہیں تھے۔اس گروپ نے ان سات افراد کے نام بھی جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے سوموار کو لیبیا میں القاعدہ کے لیڈر کو حملے میں نشانہ بنانے کی اطلاع دی تھی لیکن اس کو بھی پکا یقین نہیں ہے کہ اس کے دو ایف 15 لڑاکا طیاروں کی بمباری میں القاعدہ کی الجزائری شاخ کے رہ نما ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ڈیبوراہ لی جیمز کا کہنا ہے کہ ''حملے کا حقیقی اثرات کا ابھی جائزہ لیا جارہا ہے''۔

واضح رہے کہ امریکا اور مغربی ذرائع ابلاغ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ان کی ہلاکت کی اطلاع دے چکے ہیں۔ مختاربلمختار کو مغربی ذرائع ابلاغ نے مختلف نام دے رکھے ہیں۔انھیں یک چشم ،مسٹر مارلبرو کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔وہ شمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ المرابطون کے رہ نما ہیں۔قبل ازیں وہ القاعدہ کی شاخ اسلامی مغرب میں القاعدہ کے رہ نما رہے تھے۔

ان پر سنہ 2013ء میں الجزائر میں ایک گیس پلانٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔اس حملے میں مسلح جنگجوؤں نے اڑتیس افراد کو یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کردیا تھا۔ مہلوکین میں زیادہ تر مغربی باشندے تھے۔

ان کے بارے میں پہلے یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ وہ مالی میں ایک حملے میں ہلاک ہوگئے تھے لیکن بعد میں سکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ وہ گذشتہ سال مالی سے خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں منتقل ہوگئے تھے۔

لیبیا کی خبررساں ایجنسی لانا نے سرکاری حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ امریکی طیارے نے ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے اجدابیا کے جنوب میں ایک فارم پر حملہ کیا تھا۔اس اہلکار کے بہ قول بلمختار انصار الشریعہ سمیت بعض انتہا پسند گروپوں کے لیڈروں کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھے۔

لیکن انصار الشریعہ نے اپنے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ آیا بلمختار بھی اس اجلاس میں شریک تھے یا نہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے انصار الشریعہ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اس کے جنگجو بن غازی میں لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔