.

ناروے : افغان حکومت اور طالبان کی عالمی کانفرنس میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان حکومت اور طالبان کے نمائندے ناروے میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔اس کانفرنس میں افغانستان میں جاری تنازعے کے خاتمے پر غور کیا جارہا ہے۔البتہ اوسلو حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ امن بات چیت کا فی الوقت کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ناروے کے زیر اہتمام اس دو روزہ اوسلو فورم میں کولمبیا کے صدر ژاں مینول سانتوز ،ایرانی نائب صدر معصومہ ابتکار اور انڈونیشی وزیرخارجہ رتنو مرسودی سمیت قریباً ڈیڑھ سو مندوبین شریک ہیں اور وہ افغانستان میں جاری تنازعے کے خاتمے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

نارویجئین وزیرخارجہ بوئرج برینڈے نے اس کانفرنس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''افغانستان سے متعلق باضابط امن مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن اگر ہم امن لانا چاہتے ہیں تو پھر جو لوگ آپس میں اتفاق نہیں کرتے ہیں،انھیں مل بیٹھنا ہوگا اور بات کرنا ہوگی''۔

افغان وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ کابل حکومت نے اوسلو سے بیس کلومیٹر مشرق میں واقع لوزبی کے مقام پر ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے چھے رکنی وفد بھیجا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ان کا تین رکنی وفد اس کانفرنس میں شریک ہے۔انھوں نے ایک بیان میں ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا ہے کہ فریقین کے درمیان امن مذاکرات بھی ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ ''یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔اس مرتبہ کانفرنس کے شرکاء یمن ،سوڈان ،صومالیہ اور افغانستان میں جاری تنازعات اور مسائل کے حوالےسے گفتگو کریں گے''۔

واضح رہے کہ طالبان ماضی میں بھی ملک میں گذشتہ تیرہ سال سے جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے قطری دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

وزیر خارجہ برینڈے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ناروے کی میزبانی میں جون کے اوائل میں حکومت اور طالبان کے وفود کے درمیان افغانستان میں خواتین کے حقوق اور بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے غیررسمی بات چیت ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔عشروں کی مثبت پیش رفتوں کے بعد ہم نے رکاوٹیں اور مسائل دیکھے ہیں۔

درایں اثناء کولمبیا کے صدر سانتوز نے کانفرنس سے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا ہے کہ ان کی حکومت اور مارکسسٹ باغیوں کے درمیان مذاکرات سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ان کے درمیان گذشتہ تیس ماہ سے کیوبا میں مذاکرات جاری ہیں۔

کولمبیا میں برسرپیکار قریباً آٹھ ہزار باغیوں نے تین ہفتے قبل یک طرفہ طور پر جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا اور وہ اس کے بعد سے قریباً روزانہ ہی شاہراہوں ،بجلی کے نیٹ ورکس ،خام تیل لے جانے والے ٹرکوں اور پائپ لائنوں پر حملے کررہے ہیں۔کولمبیا میں گذشتہ اکاون سال سے جاری اس تنازعے کے نتیجے میں دو لاکھ بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔