.

کرد جنگجوئوں کی شمالی عراق میں پیش قدمی، ایردوآن پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال میں ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں میں دولت اسلامیہ داعش کے خلاف برسرپیکار کرد تنظیموں کی حالیہ کامیابیوں اور کئی اہم مقامات پر قبضے کے بعد ترکی کی حکومت کو بھی تشویش لاحق ہوگئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شمالی شام میں کردوں کی مسلسل پیش رفت اورتل ابیض جیسے حساس مقامات پر قبضے کے بعد ترکی کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس اداروں کے کئی اہم اجلاس ہوچکے ہیں جن میں صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف پہلوئوں سے غور کیا گیا۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں عسکری قیادت کے ایک اجلاس میں مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف، چیفس آف آرمی اسٹاف اور انٹیلی جنس چیف نے شرکت کی۔ اجلاس میں شامی کرد ڈیموکریٹک پارٹی PYD کی ساحلی علاقوں کی جانب پیش قدمی اور کرد ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی خاطر "کوری ڈور" کے قیام پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ ترکی کے لیے پریشانی کا باعث اس کے اپنے علاقوں میں سرگرم ترک ڈٰیموکریٹک پارٹی PKK کا شامی کرد تنظیم کے ساتھ مل کر سرحدی علاقے تل ابیض پرقبضہ کرنا بھی ایک نئے خوف کا باعث بنا ہے۔ کرد جنگجوں نے تل ابیض پر قبضہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب عالمی اتحادیوں نے مسلسل فضائی حملوں میں سرحدی علاقوں میں داعش کے جنگجوئوں کو شکست کا سامنا ہے اور وہ فرار ہو رہے ہیں۔ ان کی جگہ خلاء کو پر کرنے کے لیے کرد جنگجو میدان میں آگئے ہیں۔

کردوں کی پیش قدمی سے مقامی آبادی کی بڑی تعداد ترکی میں نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے۔ دوسری جانب کرد جنگجو عراق، شام اورترکی سے اپنے قبیلے کے لوگوں کو تل ابیض میں جمع کررہے ہیں۔ انٹیلی جنس حکام کے مطابق PYD چھ ہزار کردوں کو کوبانی سے اور 2700 کو شمالی عراق کے کرد شہروں سے وہاں لانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ترکی کے سرحد پر کردوں کے اثرونفوذ کو بڑھایا جاسکے۔

انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں اگرچہ کردوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عرب اور ترکمان بھی رہائش پذیر ہیں لیکن دوسرے علاقوں سے کرد آبادی کو وہاں منتقل کرنے کا مقصد ترکمانوں اور عربوں کو وہاں سے بے دخل کرنا ہے۔ کردوں کی تازہ پیش رفت میں عالمی اتحادی طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری بھی ہے جس کے نتیجے میں داعشی جنگجو پسپا ہوئے مگر ان کی جگہ کردوں نے لے لی ہے۔ اس وقت سرحدی علاقے کوبانی، عفرین اور کئی ساحلی جزیروں کو کردوں نے باہم متحد کردیا ہے۔

کردوں کے بڑھتے قدموں کی چاپ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو بھی سنائی جا چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے دورہ آذربائیجان سے واپسی کےفوری بعد صورت حال سے آگاہی کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا اور تل ابیض میں کردوں کے کنٹرول پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ شمالی شام میں کردوں کی پیش قدمی کے بعد پندرہ ہزار ترکمان اور عرب باشندے ترکی میں پناہ حاصل کرچکے جس کے بعد سرحد بند کردی گئی تھی تاہم گذشتہ روز اسے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کردوں کا اکٹھ اور ان کی فاتحانہ پیش قدمی کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ یہ لوگ ہماری حدود کے اندر اپنی مختار ریاست کا بھی اعلان کرسکتے ہیں۔ اس لیے اس موضوع کی حساسیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ ترکی اور اس کے مغربی اتحادی کرد ڈٰیموکریٹک پارٹی اور اس کی شامی شاخ کرد ڈیموکریٹک یونین کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔ تاہم اتحادی ممالک کی تازہ بمباری سے ان تنظیموں کو صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک کی بمباری سے داعش کی شکست کے بعد الرقہ گورنری کے زیرانتظام آنے والے تل ابیض پر کرد جنگجوئوں نے قبضہ کیا تو بڑی تعداد میں مقامی آبادی ترکی میں داخل ہونا شروع ہوگئی ہے۔