.

کم عمر برطانوی خودکش بمبار کی شناخت

طلحہ اسمال نے خود کو شمالی عراق میں دھماکے سے اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت کی جانب سے شہریوں کو شدت پسندی سے روکنے بالخصوص شام اور عراق کے محاذوں پر سرگرم دولت اسلامیہ "داعش" کی صفوں میں شمولیت کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت قانون سازی کے باوجود شدت پسندی کے رحجان پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ اس کی تازہ مثال ایک کم عمر برطانوی جنگجو کا شمالی عراق کی صلاح الدین گورنری میں ایک تازہ خود کش حملہ بھی ہوسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر برطانوی کم عمرجنگجو کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جس نے حال ہی میں شمالی عراق میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ برطانوی اخبارات میں شائع ہونے والی تصویر کے ساتھ کم عمر خود کش بمبار کا اصل نام طلحہ اسمال ہے تاہم وہ داعش کے ہاں ابو یوسف البرطانوی کی عرفیت کے ساتھ مشہور تھا۔

داعش کی جانب سے طلحہ اسمال کی ایک تصویر جاری کی گئی ہے جس میں اسے بارود سے بھری اس کی کار کے اندر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ بعد ازاں اس نے وہی کار دھماکے سے اڑا دی تھی۔

اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق طلحہ اسمال المعروف ابو یوسف البریطانوی نے حال ہی میں صلاح الدین گورنری میں اپنی کار دھماکےسے اڑا دی تھی۔ یہ خود کش حملہ عراقی فوج پرکیا گیا تھا اور اس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق کم عمر داعشی خود کش بمبار کا تعلق شمالی انگلینڈ کے وسٹ یورکشیر کے مقام سے ہے جہاں اس کے اہل خانہ بھی رہ رہے ہیں۔

مقتول بمبار کے اہل خانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ آیا طلحہ اسمال خود کش بم حملے میں مارا گیا ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی ادارے اس کی چھان بین کررہے ہیں تاہم سوشل میڈیا پر جو تصویر سامنے آئی ہے وہ طلحہ ہی کی ہے۔ طلحہ اسمال کے والدین اور خاندان کے دوسرے افراد نے اس کی شدت پسند گروپ میں شمولیت اور خود کش بمبار بن کر خود کو ہلاک کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی سیکیورٹی اداروں کی اپنی رپورٹس کے مطابق برطانیہ سے کم سے کم 600 افراد شام اور عراق میں شدت پسند تنظیموں میں شمولیت کی غرض سے بیرون ملک جا چکے ہیں۔ انہی میں "جون جہادی" نامی ایک جنگجو قیدیوں کے گلے کاٹنے کے حوالے سےکافی مشہور بھی ہوا ہے۔ دیگر یورپی ملکوں سے بھی سیکڑوں افراد داعش میں شمال ہوچکے ہیں۔ یورپی حکومتوں نے شہریوں کو داعش میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے قانون سازی بھی کررہی ہیں تاہم اس کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوا ہے۔