.

یمن: القاعدہ رہنما الوحیشی امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مقامی ذرائع کے مطابق القاعدہ کی جزیرہ نما عرب کی شاخ کے ایک رہنما کو امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

ایک مقامی نیوز ویب سائٹ ناصر عبدالکریم الوحیشی یا ابو بصیر کے نام سے پہچانے جانے والے القاعدہ رہنما کو دو دیگر القاعدہ ارکان کے ساتھ یمن کے المکلاء شہر میں نشانہ بنایا گیا۔

جزیرہ نما عرب کی القاعدہ بین الاقوامی انتہاپسند تنظیم کی یمن میں نمائندہ تنظیم ہے اور یہ یمن میں موجود امریکی سفارتخانے، سیاحوں، امدادی کارکنوں، انسداد دہشت گردی پولیس کے عہدیداروں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ دار ہے۔

الوحیشی اساما بن لادن کے سیکریٹری رہے ہیں اور انہوں نے 2008ء میں خودساختہ طور پر اپنے آپ کو القاعدہ کی مقامی برانچ کا لیڈر قرار دے دیا۔ القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری نے 2013ء میں الوحیشی کو اپنا نائب مقرر کردیا تھا۔

انہیں سال 2003ء میں گرفتار کرکے یمن بھجوا دیا گیا تھا، مگر وہ 2006ء میں وہ دیگر 22 افراد کے ساتھ مل کر جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے جیل سے فرار ہونے کے بعد انٹرپول نے ان کے خلاف اورینج نوٹس جاری کیا اور انہیں واضح اور موجودہ خطرہ قرار دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ناصر الوحیشی کو 2010ء میں ایک عالمی دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور ان کی معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا تھا۔