.

مصر: ملزمان کا کمرہ عدالت میں داعش کی بیعت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں مصر میں اسلام پسند مذہبی جماعتوں کے زیرحراست رہ نمائوں اور کارکنوں کو جہاں سنگین نوعیت کی سزائیں سنانے کا سلسلہ جاری ہے وہیں گذشتہ روز قاہرہ کی ایک عدالت میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب ایک ملزم نے مقدمہ کی سماعت کے دوران جج کے سامنے کھلے عام دولت اسلامیہ عراق وشام داعش اورتنظیم کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کی غائبانہ بیعت کا اعلان کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قاہرہ کی ایک عدالت نے "الظواہری سیل" نامی مقدمہ کی سماعت شروع کی۔ اس مقدمہ میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے بھائی محمد الظواہری سمیت 68 ملزمان کا ٹرائل جاری ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں ایک شدت پسند عمار رمضان ممدوح نے نہایت بے باکی کے ساتھ کہا کہ "میں یہاں اس عدالت کے سامنے امیر المومنین ابو بکرالبغدادی کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ میرے ساتھ بیعت میں عادل حبارہ بھی شامل ہیں۔ جلد ہی مصر بھی دولت اسلامیہ کے زیرنگیں ہوگا اور آپ ابو بکرالبغدادی کو یہاں کا حکمراں دیکھیں گے۔" زیرحراست شدت پسند کے الفاظ سننے کے بعد عدالت نے اسے فوری طور پر کمرہ عدالت سے نکالنے اور حراستی مرکز منتقل کرنے کا حکم دیا تاہم ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔ ان کا طبی معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔"

عدالت کے فاضل جج جسٹس محمد شیرین فہمی نے ملزم کے متنازعہ ریمارکس پر اس کے خلاف توہین عدالت کا الگ سے مقدمہ قائم کرنے کا بھی آرڈر جاری کیا، جس پر عدالت میں قیدیوں کے پنجرے میں سخت شور اور غوغا سنا گیا عدالت نے اس کے ساتھ کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

اس موقع پر وکیل استغاثہ نے بتایا کہ "الظواہری سیل" کے تحت جن ملزمان کا ٹرائل جاری ہے وہ نہایت خطرناک دہشت گرد ہیں اور ملک میں دولت اسلامی"داعش" کی داغ بیل ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان کی جانب سے مصری حکام پر تکفیر کے فتوے بھی صادر ہوچکے ہیں اور یہ بندوق کے زور پرملک میں نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ ماضی میں یہ لوگ پولیس،سیکیورٹی اہلکاروں اور قبطی برادری کے لوگوں پر حملوں میں بھی ملوث رہنے کے ساتھ عبادت گاہوں میں دھماکوں اور ملک میں انتشار پھیلانے کی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔