.

القاعدہ نے بھی مختاربلمختار کی ہلاکت کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کی شمالی افریقا میں شاخ نے الجزائر سے تعلق رکھنے والے جنگجو لیڈر مختار بلمختار کی لیبیا میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاکت سے متعلق رپورٹس کی تردید کردی ہے۔

اسلامی تنظیموں کی میڈیا میں سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے سائٹ انٹیلی جنس گروپ نے اسلامی مغرب میں القاعدہ کے ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''مختار بلمختار زندہ ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''مجاہد کمانڈر خالد ابوالعباس (مختار بلمختار) ابھی تک زندہ ہیں اور بہتر ہیں۔وہ اللہ کی سرزمین پر گھوم پھر رہے ہیں ،وہ اللہ کے انصار کی حمایت کررہے ہیں اور اس کے دشمنوں سے لڑرہے ہیں''۔

لیبیا کی حکومت نے 15 جون کو ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے اجدابیا کے جنوب میں ایک فارم پر امریکی فوج کے ایک فضائی حملے میں مختار بلمختار کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی لیکن اس سے ایک روز بعد ہی لیبیا میں القاعدہ کی شاخ انصارالشریعہ نے اس اطلاع کی تردید کردی تھی۔

انصارالشریعہ نے گذشتہ منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ لیبیا کے مشرق میں امریکا کے فضائی حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں مختاربلمختار شامل نہیں تھے۔اس گروپ نے ان سات افراد کے نام بھی جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص ہلاک نہیں ہوا تھا۔

موریتانیہ کی خبررساں ایجنسی الاخبار کو موصول ہونے والے ایک بیان کے مطابق شمالی افریقا میں صحارا کے علاقے میں برسرپیکار جنگجو گروپ المرابطون نے بھی بلمختار کی لیبیا کے اس علاقے میں موجودگی کی تردید کی ہے جہاں امریکی لڑاکا طیارے نے بمباری کی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع نے سوموار کو لیبیا میں القاعدہ کے لیڈر کو حملے میں نشانہ بنانے کی اطلاع دی تھی لیکن اس کو بھی پکا یقین نہیں ہے کہ اس کے دو ایف 15 لڑاکا طیاروں کی بمباری میں القاعدہ کی الجزائری شاخ کے رہ نما ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ڈیبوراہ لی جیمز کا کہنا ہے کہ ''حملے کے حقیقی اثرات کا ابھی جائزہ لیا جارہا ہے''۔

واضح رہے کہ امریکا اور مغربی ذرائع ابلاغ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ان کی ہلاکت کی اطلاع دے چکے ہیں۔ مختاربلمختار کو مغربی ذرائع ابلاغ نے مختلف نام دے رکھے ہیں۔انھیں یک چشم ،مسٹر مارلبرو کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔وہ اس وقت شمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ المرابطون کے رہ نما ہیں۔قبل ازیں وہ اسلامی مغرب میں القاعدہ کے رہ نما رہے تھے۔تاہم ان کے القاعدہ کی مرکزی قیادت کے ساتھ روابط بدستور قائم ہیں۔

ان پر سنہ 2013ء میں الجزائر میں ایک گیس پلانٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔اس حملے میں مسلح جنگجوؤں نے اڑتیس افراد کو یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کردیا تھا۔ مہلوکین میں زیادہ تر مغربی باشندے تھے۔