.

امریکی سینٹ کام کے راز چرانے والے داعشی ہیکر کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند گروپ 'داعش' کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اس کی صفوں میں ایسے جدید تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہورہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ امریکا جیسے طاقت ورملکوں کے حساس اداروں کے نہایت محفوظ ڈیٹا تک رسائی میں بھی ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایسے ہی ایک برطانوی نژاد داعشی جنگجو کی شناخت سامنے آئی ہے جو امریکی سینٹ کام [امریکی فوجی قیادت] کے 'ٹویٹر' اور ویڈیو شیرنگ ویب سائیٹ 'یوٹیوب' پر بنے اکائونٹس ہیک کرنے اور مشاہیر کے ذاتی اکائونٹس میں نقب لگانے میں ملوث رہا ہے۔

تازہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ داعش کے ہیکرز کی دنیا کے ماسٹر مائنڈ کا نام "جنید حسین" ہے اور اسے تنظیم میں ابو حسین البریطانی کی عرفیت سے جانا جاتا ہے۔ یہ صاحب برطانیہ کے برمنگھم کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور سنہ 2012ء میں انٹرنیٹ سے معلومات چوری کرنے کے الزام میں ایک بار گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔

العربیہ کے ذرائع نے امریکی حکام کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ جنید حسین سینٹرل کمانڈ کے یوٹیوب اور ٹویٹر پر بنے اکائونٹس میں نقب لگانے، اہم معلومات چوری کرنے اور 100 امریکی فوجیوں کے ذاتی سوشل میڈیا اکائونٹس تک رسائی میں ملوث ہے۔ اس نے ریاست اوھایو، مینسوٹا اور کلوراڈو پر حملوں کی بھی دھمکی دی ہے۔

جنید حسین کو 'داعش' کا "الیکٹرانک دماغ" اس کی انٹرنیٹ میں حساس معلومات تک رسائی کی صلاحیت ہی کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ اخبار "ڈیلی میل" کے مطبق جنید کچھ عرصہ پیشتر برطانیہ سے شام منتقل ہوا جہاں اس نے داعش میں شمولیت کے بعد اس نے مشاہیر کے بنک اکائونٹس ہیک کیے۔

جنید حسین نہ صرف خود داعش کی صفوں میں شامل ہوا بلکہ اس نے اپنی 45 سالہ اہلیہ 'سالی جونز' جو اب ام حسین کے نام سے جانی جاتی ہیں کو 10 سالہ بیٹے سمیت داعش میں شمولیت کے لیے شام منتقل کیا۔ جہاں اسے داعش کے خواتین ونگ "الخنساء بریگیڈ" کی قیادت سونپی گئی۔