.

تیونس نے طرابلس میں قونصل خانہ بند کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حکومت نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں اپنے قونصل خانے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس نے یہ اقدام ایک ہفتہ قبل مسلح افراد کے قونصل خانے پر حملے کے بعد کیا ہے۔

نامعلوم مسلح افراد قونصل خانے کے عملے کے دس ارکان کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے تھے اور انھیں جمعرات کو رہا کردیا گیا ہے۔تیونسی وزیرخارجہ تائب بیکوشی نے جمعہ کو دارالحکومت تیونس میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران ان کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

تیونسی حکومت نے ان کی رہائی کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے لیکن ان کی رہائی تیونس کی ایک عدالت کی جانب سے دہشت گردی اور اغوا کے الزامات میں زیرحراست ایک لیبی کی ملک بدری سے اتفاق کے بعد عمل میں آئی ہے۔

تیونس کے پراسیکیوٹر کے ترجمان کریم شیبی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس لیبی شخص کا نام ولید قلیب ہے اور اس کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ترجمان شیبی نے کہا کہ تیونسی اپیل عدالت کے کریمینل ڈویژن نے بدھ کو لیبی حکام کی درخواست پر اس مشتبہ شخص کو عبوری طور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وزیرخارجہ بیکوشی نے قونصل خانے کے ارکان کی رہائی کے بدلے میں اغوا کاروں کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل سے انکار کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ولید قلیب کو لیبیا سے تیونس میں داخلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور اب اس کا معاملہ عدلیہ کے ہاتھوں میں ہے۔واضح رہے کہ تیونس کے قونصل خانے کے عملے کے ارکان کو 12 جون کو دارالحکومت طرابلس سے اغوا کیا گیا تھا۔طرابلس پر اس وقت اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حکومت ہے۔