.

جنیوا میں یمن مذاکرات کسی سمجھوتے کے بغیر ختم

سعودی اتحادیوں کے یمن میں حوثی باغیوں اور ری پبلکن گارڈز پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس شہر جنیوا میں یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی اور نگرانی میں امن مذاکرات کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔

یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ریاض یاسین نے کہا ہے کہ سوئس شہر میں مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق بھی کوئی سمجھوتا نہیں ہوا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جنیوا میں حوثیوں کے نمائندوں ،سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس اور سعودی عرب میں جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے اتحادیوں کے ساتھ باری باری بات چیت کی ہے تاکہ انھیں ملک میں جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے کسی سمجھوتے پر آمادہ کیا جاسکے۔

ان متحارب فریقوں نے جمعہ کو بھی مذاکرات کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھنے سے انکار کردیا تھا اور انھوں نے کسی قسم کی مفاہمت کا بھی کوئی اشارہ نہیں دیا تھا۔

سابق صدر علی صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے وفد کے رکن یحییٰ ضوائد نے کہا کہ ''ہم آج کی ملاقاتوں کے بارے میں پُرامید تھے اور ہم نے اقوام متحدہ کی تجاویز کو سنا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ جو کچھ تجویز کررہے ہیں،وہ اس معیار کا نہیں ہے جس کی ہم توقع کررہے تھے''۔

اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی نے قبل ازیں جنیوا میں مذاکرات میں توسیع کی اطلاعات کی بھی تردید کی تھی۔انھوں نے کہا کہ جلاوطن حکومت کا وفد ہفتے کو جنیوا سے روانہ ہونے والا ہے اور حوثی وفد اتوار کو روانہ ہوجائے گا۔اس سے پہلے کے وقت تک ہی بات چیت میں توسیع کی جاسکتی تھی۔

یمن کے متحارب فریقوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ان مذاکرات کے دوران جنگ بندی کی ضرورت سے اتفاق کیا تھا لیکن ان کے درمیان اس کی تفصیل پر اختلافات طے نہیں ہوسکے تھے۔

حوثیوں نے مذاکرات سے قبل انسانی بنیاد پر جنگ بندی کے اعلان کے مطالبہ کیا تھا اور یمنی حکومت نے مشروط طور پر اس سے اتفاق کیا تھا۔اس نے یہ شرط عاید کی تھی کہ حوثی اور ان کے حامی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپریل میں منظور کردہ قرارداد نمبر 2216 کی پاسداری کریں۔اس میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردیں۔

سعودی اتحادیوں کے فضائی حملے

درایں اثناء سعودی عرب کی قیادت میں لڑاکا طیاروں نے یمنی دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کی اتحادی ری پبلکن گارڈ فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔صنعا کے نواحی جنوبی علاقے کے مکینوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے ری پبلکن گارڈز کے السواد کیمپ پر تین فضائی حملوں کی آوازیں سنی ہیں۔

اتحادی طیاروں نے صنعا سے جنوب مشرق میں واقع علاقے خولان پر تین فضائی حملے کیے ہیں اور صوبہ الجوف کے علاقے الہزم میں حوثیوں کی اتحادی ایک سو پندرھویں انفینٹری بریگیڈ کے کیمپ پر چھے حملے کیے ہیں۔جنوبی شہر عدن میں بھی حوثی کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔

ان علاقوں کے مکینوں نے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں دی ہے لیکن حوثیوں کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے صعدہ کے علاقے رازح میں فضائی حملوں میں نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔