.

یمن میں امدادی کاموں کے لیے ایک ارب 60 کروڑ ڈالرز درکار

اقوام متحدہ کی عالمی امدادی اداروں سے یمنیوں کی امداد کے لیے عطیات دینے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس کو یمن میں جاری جنگ سے پیدا شدہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز درکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان جینز لائرکے نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''اس وقت دو کروڑ دس لاکھ سے زیادہ یمنیوں کو کسی نہ کسی شکل میں انسانی امداد یا تحفظ کی ضرورت ہے اور یہ ملک کی کل آبادی کا اسّی فی صد ہیں''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اسٹیفن او برائن نے یمن میں جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے عالمی امدادی اداروں سے عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت یمن بھر میں انسانی المیہ رونما ہونے کا خدشہ ہے اور خاندانوں کے خاندان خوراک کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

درایں اثناء یمن کے جنوبی شہر عدن اور وسطی شہر تعز میں حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفادار عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے ارکان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں پندرہ حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمن میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان یہ جھڑپیں جنیوا میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں جاری امن مذاکرات میں توسیع کے اعلان کے بعد ہوئی ہیں۔اب تک ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق یمن کی جلاوطن حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغی ایک دوسرے پر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ جنیوا میں موجود حوثی وفد نے جنگ بندی کی بات کی ہے اور صرف فضائی حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ برسرزمین اپنی کارروائیاں روکنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔ان کی اس تجویز کو یمنی حکومت نے مسترد کردیا ہے اور وہ ملک میں مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کررہی ہے۔