.

حوثیوں نے جنیوا میں ''بھوت'' بھیجے تھے:یمنی وزیر خارجہ

حوثی وفد نے مذاکرات کے بجائے زیادہ تر وقت ہوٹل ہی میں گزارا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے گذشتہ ہفتے جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذاکرات میں شرکت کے لیے بھیجے گئے حوثی وفد کو ''گھوسٹ'' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وفد کے ارکان نے اپنا زیادہ تر وقت ہوٹل ہی میں گزارا تھا اور انھوں نے بحران کے حل کے لیے بات چیت سے گریز کیا ہے۔

انھوں نے لندن سے شائع ہونے والی عربی روزنامے الشرق الاوسط کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ حوثیوں نے مذاکرات کے دوران تعاون کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''بات چیت یک طرفہ ہی رہی ہے اور حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد نمبر 2216 پرعمل درآمد کے لیے لچک کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا ہے''۔

یمنی وزیرخارجہ نے انٹرویو میں کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی یمن میں بحران کے خاتمے کے لیے آمد ان کے عالمی ایلچی کی حیثیت میں کام کی وجہ سے ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت نے اسماعیل ولد شیخ احمد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے ساتھ یمن سے باہر کوئی مذاکرات نہ کریں کیونکہ انھیں مسلح ملیشیا قرار دیا جاتا ہے''۔

سوئس شہر جنیوا میں گذشتہ جمعہ کے روز یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی اور نگرانی میں منعقدہ امن مذاکرات کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگئے تھے۔یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے تب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

حوثیوں نے مذاکرات سے قبل انسانی بنیاد پر جنگ بندی کے اعلان کا مطالبہ کیا تھا اور یمنی حکومت نے مشروط طور پر اس سے اتفاق کیا تھا۔اس نے یہ شرط عاید کی تھی کہ حوثی اور ان کے حامی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپریل میں منظور کردہ قرارداد نمبر 2216 کی پاسداری کریں۔

اس قرارداد میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ستمبر کے بعد قبضے میں لیے گئے تمام علاقوں کو خالی کردیں،یمنی فوج کے چھینے گئے ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائیں اور تمام سرکاری تنصیبات اور عمارتوں کو بھی خالی کردیں لیکن حوثی باغی اپنے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا اور ملک کے دوسرے علاقوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں جبکہ اس وقت حوثی ملیشیا اور جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار مقامی مزاحمتی کمیٹیوں کے درمیان ملک کے جنوبی شہروں میں خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔