.

''ایران القاعدہ ارکان کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لارہا''

گذشتہ سال ایران نے دہشت گردی سے متعلق سرگرمیاں جاری رکھیں:امریکی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ خارجہ نے دہشت گردی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے گذشتہ سال کے دوران دہشت گردی کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔اس نے شامی صدر بشارالاسد کو بھرپور حمایت مہیا کی تھی اور القاعدہ کے سینیر ارکان کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''سال 2014ء کے دوران ایران نے عراق کے اہلِ تشیع اور افغان جنگجوؤں کو اسلحہ ،مالی امداد اور تربیت دینے کا سلسلہ جاری رکھا تھا تاکہ وہ شامی صدر بشارالاسد کے سفاکانہ کریک ڈاؤن کا حصہ بن سکیں''۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''ایران بدستور القاعدہ کے سینیر ارکان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہا ہے اور اس نے اپنے زیر حراست القاعدہ کے ان سینیر ارکان کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی ہے''۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر حتمی معاہدہ طے پانے کو ہے اور اب 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل اس کی تفصیل طے کی جارہی ہے۔

درایں اثناء اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اس رپورٹ میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایرانی حکام امریکیوں کو قتل کرنے کی کسی سازش میں ملوّث ہیں۔اس میں یہ بھی الزام عاید نہیں کیا گیا ہے کہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیائیں امریکی مشیروں کے قتل کی سازش کررہی ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ''رپورٹ میں ایسے خاص اعداد وشمار بھی فراہم نہیں کیے گئے ہیں جن سے یہ پتا چل سکے کہ ایرانی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے یا ان میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن رپورٹ ایران کی ایسی جارحانہ خارجہ پالیسی کی تصویرکشی کررہی ہے جو بالعموم امریکا کے مفادات کے منافی ہوتی ہے''۔۔