.

اقوام متحدہ کی غزہ جنگ سے متعلق رپورٹ کا اجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ 2014ء کے وسط میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق اپنی رپورٹ آج سوموار کو جاری کررہی ہے۔

اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے نیویارک کی سپریم کورٹ کی سابق جج میری میکگووان ڈیوس کی سربراہی میں غزہ جنگ کی تحقیقات کی ہے۔اس میں اسرائیلی فوج اور غزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس دونوں ہی کو جنگی جرائم کا قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے صدر نے کچھ عرصہ قبل امریکی خاتون جج میری میکگووان ڈیوس کو غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سربراہ مقرر کیا تھا۔ان کے پیش رو پروفیسر ولیم شاباس اسرائیل کی جانب سے متعصب ہونے کے الزامات کے بعد دستبردار ہوگئے تھے۔اسرائیل نے مبینہ طور پر اقوام متحدہ کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جن سے یہ پتا چلا تھا کہ پروفیسر شاباس سنہ 2012ء میں فلسطینی اتھارٹی کے تن خواہ دار کنسلٹینٹ رہے تھے۔

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی کے مینڈیٹ کے مطابق 23 مارچ کو شائع ہونا تھی لیکن اس میں پروفیسر ولیم شاباس کے مستعفی ہونے کے بعد تاخیر ہوئی ہے۔اب تین ماہ کی تاخیر کے بعد اس کو جاری کیا جارہا ہے لیکن واضح رہے کہ اسرائیل اس کے مندرجات کو پہلے ہی مسترد کرچکا ہے اور اس نے جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

یاد رہے کہ جولائی اور اگست 2014ء میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران بائیس سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں یا ان کے حملوں میں چھے اسرائیلی شہری اور سڑسٹھ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔اقوام متحدہ کی کمیٹی نے فریقین کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی ہے۔