.

موصل: امریکی حملے میں داعش کے سرکردہ جنگجو کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں امریکی فوج کے فضائی حملے میں داعش کا ایک سرکردہ جنگجو ہلاک ہوگیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش کا تیونس سے تعلق رکھنا والا جنگجو طارق بن الطاہر بن الفلیح العونی الہرزی 15 جون کو موصل میں ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ خارجہ نے اس کو دہشت گرد قرار دے رکھا تھا۔مسٹر وارن کا کہنا ہے کہ ''اس کی موت سے داعش کی شمالی افریقا کے جہادیوں کو شام اور عراق میں لڑائی کے لیے بھرتی کرنے اور لانے کی صلاحیت پر زَد پڑے گی۔

الہرزی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا بھی لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں 11ستمبر 2012ء کو مسلح افراد کے امریکی قونصل خانے پر حملے میں کردار تھا۔اس حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر سمیت چار امریکی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے شمالی افریقا اور مشرق وسطیٰ میں داعش سے وابستہ جنگجوؤں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے گذشتہ سال ستمبر میں الہرزی کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ داعش کا ایک سرکردہ رکن تھا۔وہ اس گروپ کے لیے فنڈز اکٹھے کیا کرتا تھا اور سنہ 2013ء سے داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرتا رہا تھا اور انھیں سفری سہولتیں مہیا کرتا تھا۔

الہرزی ان معدودے چند لوگوں میں سے ایک تھا جنھوں نے سب سے پہلے جنگجو کی حیثیت سے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔اس کو شام اور ترکی کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں داعش کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔اس نے البانیا ،برطانیہ اور ڈنمارک سمیت یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو ترکی کے راستے شام پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

محکمہ خزانہ کا کہنا تھا کہ اس نے 2013ء کے وسط میں داعش کی بیرون ممالک میں کارروائیوں کی قیادت کی تھی اور جنگجوؤں کو انفرادی طور پر لبنان میں اقوام متحدہ کے مشن کے کمانڈر کو حملے میں ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کا حکم دیا تھا۔