.

آسٹریلیا کو انتہائی مطلوب داعش کے دو جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کو انتہائی مطلوب دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے دو جنگجو مبینہ طور پر عراق کے شمالی شہر موصل میں لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں اور آسٹریلوی حکومت اب ان دونوں کی ہلاکت سے متعلق رپورٹس کی تصدیق کررہی ہے۔

آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) نے خالد شیروف اور محمد العمر کے خاندان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں جنگجو گذشتہ ہفتے موصل میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔

آسٹریلوی وزیرخارجہ جولی بشپ نے اس بات کی تو تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے موصل کے علاقے میں میزائل فائر کیے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی ان دونوں کی موت کی تصدیق کی منتظر ہیں۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسٹر العمر کی ہلاکت سے متعلق اطلاع تو یقینی ہے لیکن مسٹر شیروف کی موت سے متعلق رپورٹس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

خالد شیروف نے گذشہ سال اس وقت عالمی سطح پر شہرت پائی تھی جب انھوں نے اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ شامی فوجیوں کے کٹے ہوئے سروں کی تصاویر ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی تھیں۔

خالد شیروف نے اس کے علاوہ فوجی وردی میں ملبوس اپنی اور اپنے تین بیٹوں کی مزید تصاویر بھی ٹویٹر پر پوسٹ کی تھیں۔وہ سنہ 2005ء میں سڈنی میں حملے کی سازش کے الزام میں گرفتاری کے بعد قریباً چار سال تک جیل میں قید رہے تھے اور سنہ 2013ء میں العمر کے ساتھ ملک سے بھاگ گئے تھے۔العمر کی بھی شامی فوجیوں کے کٹے ہوئے سروں کے ساتھ تصاویر منظر پر آئی تھیں۔

مس جولی بشپ کا کہنا تھا کہ '' مسٹر العمر اور مسٹر شیروف شام نواز جنگجوؤں کے سروں کے ساتھ تصاویر کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہوئے تھے۔وہ تشدد اور اپنی سفاکیت کی وجہ سے بدنام ترین تھے''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ دونوں افراد شہید نہیں تھے بلکہ وہ مجرم ٹھگ تھے جنھوں نے دہشت گردی کے سفاکانہ حملے کیے تھے اور لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا تھا''۔

خالد شیروف کے والد نے اپنے پوتے کی شامی فوجیوں کے سروں کے ساتھ تصویر دیکھ کرسڈنی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اپنے بیٹے (خالد) کی موت کی خبر سن کر بہت خوشی ہوگی۔

داعش کے مذکورہ دونوں جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی حکومت پارلیمان میں اسی ہفتے ایک نیا قانون متعارف کرانے جارہی ہے۔اس قانون کے تحت دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث دُہری شہریت کے حامل شہریوں کو ان کی شہریت سے محروم کردیا جائے گا۔ تاہم ابھی تک آسٹریلوی حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا شیروف اور العمر بھی دُہری شہریت کے حامل تھے۔

آسٹریلیا نے شہریوں کو کٹڑپن کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے پہلے ہی سخت قوانین متعارف کرارکھے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود آسٹریلیا کے ایک سو پچھہتر شہری اس وقت عراق اور شام میں داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔آسٹریلوی حکومت نے اسی ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے ایک سو دس شہری عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔پینتیس آسٹریلوی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ لڑتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں اور مزید تیس خطے سے واپس آچکے ہیں۔