.

ایرانی پارلیمان میں جوہری حقوق کے تحفظ کا بل منظور

بل کے قانون بننے پر حکومت جوہری حقوق اور کامیابیوں کے تحفظ کی پابند ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت حکومت کے لیے لازم قراردیا گیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے باوجود ملک کے جوہری حقوق اور کامیابیوں کا تحفظ کرے۔

صدر حسن روحانی کی حکومت نے پارلیمان میں منظور کردہ اس بل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور ایک حکومتی ترجمان نے مسودۂ قانون کو غیر آئینی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ملک کی دفاعی اور سکیورٹی پالیسیوں کے منافی ہے۔

اس بل کی منظوری سے اعتدال پسند صدر حسن روحانی اور قدامت پسندوں کی بالادستی کی حامل پارلیمان کے درمیان محاذ آرائی کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔اس بل کی ایران کی شورائے نگہبان منظوری دے دیتی ہے تو یہ قانون بن جائے گا اور حکومت اس پر عمل درآمد کی پابند ہوگی۔

اس میں حکومت پر زوردیا گیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری حقوق اور کامیابیوں کا تحفظ کرے۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارکان پارلیمان ایران کی مغرب کے ساتھ طے پانے والی کسی بھی ڈیل کی منظوری دیں گے۔

پارلیمان میں موجود دو سو چوالیس میں سے دو سو چودہ اراکین نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا ہے ،دس نے اس کی مخالفت کی جبکہ چھے رائے شماری کے وقت غیر حاضر رہے ہیں۔ اس بل میں عالمی معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن فوجی یا حساس غیر جوہری جگہوں کے معائنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

پارلیمان میں یہ رائے شماری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور فرانس اور برطانیہ اس بات پر زوردے رہے ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے۔

صدر حسن روحانی کے ترجمان محمد باقر نوبخت نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ بل آئین کی دفعہ 176 کے منافی ہے۔مذاکرات کے ایشو کا سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے تعلق ہے اور اس کا حکومت یا پارلیمان سے کوئی تعلق نہیں ہے''۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاری جانی نے کہا ہے کہ اگر سپریم لیڈر علی خامنہ ای یہ کہہ دیتے ہیں کہ مغربی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والی ڈیل ایران کے مفاد میں ہے تو ارکان پارلیمان بھی اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ ایرانی پارلیمان کے ارکان مغربی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے مجوزہ معاہدے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں جبکہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے فرامین کو تمام خارجہ اور داخلہ امور میں حرف آخر کا درجہ حاصل ہے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں (اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی) کے درمیان جنیوا میں طویل مذاکرات کے بعد دو اپریل کو فریم ورک سمجھوتا طے پایا تھا اور اب وہ 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل حتمی جوہری سمجھوتے کے لیے دن رات مذاکرات کررہے ہیں اور اس کی تفاصیل طے کررہے ہیں۔طرفین کے درمیان ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے حوالے سے اختلافات بدستور قائم ہیں۔