.

ایران کا جوہری تحقیقی کام منجمد کرنے کی تجویز مسترد

امریکا نے پابندیاں اٹھانے کے لیے پیچیدہ فارمولا پیش کیا ہے: آیت اللہ علی خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے حوالے سے اپنے مؤقف کو مزید سخت کردیا ہے اور انھوں نے جوہری تحقیق کے کام کو طویل عرصے کے لیے منجمد کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔انھوں نے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو فوجی تنصیبات تک رسائی دینے کی بھی مخالفت کردی ہے۔

علی خامنہ ای کا ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے یہ بیان نشر کیا گیا ہے کہ ایران سے جوہری پروگرام کی تحقیق اور ترقی سے متعلق سرگرمیوں کو منجمد کرنے کا مطالبہ جابرانہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم دس سال کے لیے پابندیوں کو قبول نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم نے مذاکراتی ٹیم کو بتا دیا ہے کہ کتنے سال کے لیے پابندیاں قابل قبول ہوں گی۔پابندیوں کے ان برسوں کے دوران تحقیق اور ترقی کا کام مسلسل جاری رہنا چاہیے''۔

علی خامنہ ای نے امریکا پر پابندیاں اٹھانے کے لیے ایک پیچیدہ فارمولے پیش کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی جانب سے ایران کے تعاون کی تصدیق میں بہت زیادہ وقت لگ جائے گا۔اس لیے پابندیاں اٹھانے کا اقدام ایران کی جانب سے معاہدے کی پاسداری پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔

ایران کے سپریم لیڈر نے فوجی تنصیبات کے معائنے اور اپنے ملک کے سائنسدانوں سے انٹرویو لینے کی تجویز کو بھی مسترد کردیاہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''امریکا کا مقصد ایران کی جوہری صنعت کو تباہ کرنا ہے۔وہ دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں''۔

ایران اور امریکا ،روس ،چین ،برطانیہ ،فرانس اور جرمنی کے درمیان جوہری تنازعے پر 30 جون کی ڈیڈ لائن سے قبل حتمی معاہدہ طے پانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔امریکا کے محکمہ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ حتمی معاہدے کا اہم حصہ ہوگا۔

درایں اثناء ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ نائب وزرائے خارجہ عباس عراقچی اور ماجد تخت روانچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کی نائب ہیلگا شمدت سے بات چیت شروع کردی ہے۔تاہم ایرنا نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔