.

سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں کی حوثیوں پر شدید بمباری

یمن کے سات صوبوں میں حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے بدھ کو یمن کے سات صوبوں میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق رمضان المبارک کے آغاز کے بعد سعودی اتحادیوں کی حوثی ملیشیا پر یہ شدید ترین بمباری ہے۔اتحادی طیاروں نے حوثیوں کے مضبوط گڑھ شمالی صوبے صعدہ اور سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع صوبے حجہ میں باغیوں کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اتحادی طیاروں نے مغربی صوبے الحدیدہ اور جنوبی صوبوں البیضاء ،ضالع ،لحج اور عدن میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

جنوبی شہر عدن میں حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفادار جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے اور سعودی طیاروں نے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔عدن سے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی میں دوخواتین سمیت چار شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنگ بندی کی اپیل

درایں اثناء یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے متحارب جنگجو گروپوں سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنیوا میں گذشتہ ہفتے یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان ناکام امن مذاکرات سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات چیت میں جنگ بندی ان کی ترجیح تھی۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقوں اور میرے لیے بھی یہ بات اہم ہے کہ جنگ بندی پر اتفاق کیا جائے۔انھوں نے رمضان المبارک کے اختتام سے قبل یمن میں جاری لڑائی روکنے پر زوردیا ہے۔

اسماعیل ولد شیخ احمد کا کہنا ہے کہ یمن میں قحط سے ہم دو ایک قدم ہی دور رہ گئے ہیں۔ہم لوگوں کے مصائب میں کمی کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ملیشیائیں شہروں سے نکل جائیں گے اور ممکنہ خلاف ورزیوں کو رپورٹ کرنے کے لیے نگرانی کا ایک نظام قائم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔وہ جنگ بندی اور متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔تاہم عالمی ایلچی نے تمام فریقوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھی ہوئی ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متعین ایک سفارت کار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو یمن کی بحری ناکا بندی ختم کردینی چاہیے تا کہ اس ملک میں زندگی بچانے والی ادویہ اور امدادی سامان بحری جہازوں کے ذریعے پہنچایا جاسکے۔اس سفارت کار کا کہنا ہے کہ یمن کا خوراک ،ادویہ ،ایندھن کی درآمدات پر انحصار ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں حوثی مخالف عرب اتحادی ممالک نے یمن کی بری ،بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے جس کی وجہ سے اس جنگ زدہ ملک میں انسانی بحران پیدا ہوچکا ہے اور دو کروڑ سے زیادہ یمنیوں کو خوراک ،ایندھن اور ادویہ دستیاب نہیں ہیں۔اقوام متحدہ نے یمن کی اس اسّی فی صد سے زیادہ آبادی کے لیے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔حال ہی میں یمن میں ڈینگی بخار کی وبا پھوٹ پڑی ہے اور ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس ملک میں دوبارہ پولیو کا وائرس بھی پھیل سکتا ہے۔