.

صومالیہ :الشباب کا یو اے ای ایمبیسی پر حملہ ،6 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے دارالحکومت موغا دیشو میں القاعدہ سے وابستہ الشباب تنظیم نے متحدہ عرب امارات کے ایک سفارتی قافلے پر خودکش بم حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے ہیں۔

موغادیشو کے ایک پولیس افسر عبدالقادر حسن نے چھے افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ان میں سے چارعام شہری ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خودکش حملے میں یواے ای کا کوئی سفارت کار زخمی نہیں ہوا ہے۔ صومالی سکیورٹی فورسز نے ان کے قافلے کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا اور انھوں نے اپنے ٹرک کے ذریعے کار میں سوار خودکش بمبار کو روک دیا تھا۔

الشباب کے جنگجوؤں نے متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے نزدیک اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ الشباب نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مجاہدین جنگجوؤں نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ایک وفد پر کامیاب حملہ کیا ہے''۔

صومالیہ میں یہ پہلا موقع ہے کہ القاعدہ سے وابستہ اس جنگجو گروپ نے یواے ای کے سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔یو اے ای خانہ جنگی سے تباہ حال صومالیہ میں سکیورٹی ،انفرااسٹرکچر ،ترقی اور انسانی فلاح وبہبود کے متعدد منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

صومالیہ کے ایک سکیورٹی افسر نے قبل ازیں بتایا کہ ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار ایک پک اپ ٹرک سے ٹکرادی تھی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور اس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق یو اے ای کے سفارت خانے کے نزدیک اس خودکش بم حملے کے وقت افریقی یونین کی فورسز کا ایک فوجی قافلہ بھی گزر رہا تھا۔ایک عینی شاہد حسن بائیل نے بتایا ہے کہ زوردار دھماکے کے نتیجے میں پک اپ ٹرک تباہ ہوگیا تھا۔

صومالیہ میں اقوام متحدہ کے ایلچی نیک کَے نے موغا دیشو میں یو اے ای کے خلاف دہشت گردی کے اس سفاکانہ حملے کی مذمت کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے یو اے ای کے سفیر محمد العثمانی سے گفتگو کی ہے۔انھیں حملے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

الشباب کے جنگجو قبل ازیں بھی موغادیشو میں غیر ملکی وفود پر اس طرح کے خودکش حملے کرتے رہے ہیں۔انھیں صومالیہ میں افریقی یونین اور صومالی حکومت کے تحت فورسز کے ساتھ لڑائی میں ہزیمت کا سامنا ہے۔ان سے ان کے زیر قبضہ بہت سے علاقے چھن چکے ہیں جبکہ امریکا کے بغیر پائِیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں میں ان کے متعدد سرکردہ لیڈر اور جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔