.

عبداللہ اوغلان کی بھانجی ترک پارلیمنٹ کی رکن بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عبداللہ اوغلان کا نام ذہن میں آتے ہی ایک سخت گیر جنگجو کا تصور ابھرتا ہے مگرترک حکومت بالخصوص صدر رجب طیب ایردوآن کی قومی مفاہمتی پالیسیوں کے نتیجے میں سال ہا سال تک علاحدگی کے لیے تحریک چلانے والے عبداللہ اوغلان نے نہ صرف بغاوت سے توبہ کی بلکہ اپنی پوری جماعت اور خاندان کو قومی سیاسی دھارے میں لانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عبداللہ اوغلان کی جماعت "کرد پیپلز ڈٗیموکریٹک" کی ٹکٹ پر حالیہ پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والی اوغلان کی بھانجی دیلک اوغلان اب ترک پارلیمنٹ کی رُکن منتخب ہوچکی ہیں۔

اٹھائیس سالہ دیلک اوغلان ترک پارلیمنٹ کی سب سے کم عمر رکن ہیں۔ ماضی میں کردستان کی علاحدگی کی تحریک کے دوران دیلک بھی ذرائع ابلاغ میں کافی متحرک رہ چکی اور ان کی جانب سے زیرحراست ان کے ماموں عبداللہ اوغلان کی حمایت میں بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

ترکی میں کرد آبادی 14 ملین سے زیادہ ہے اور "کرد ڈیموکریٹک" پارٹی ان کی سب سے بڑی اور نمائندہ جماعت ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی اس جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا تھا مگر علاحدگی پسندی میں ملوث ہونے کی وجہ سے جماعت پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

ترکی میں لبرل کہلوانے والے سابق حکمران کردوں کو ان کے حقوق دینے میں بری طرح ناکام رہے تو یہ خلاء موجودہ اسلام پسند صدر رجب طیب ایردوآن نے پر کیا۔ انہوں نے عبداللہ اوغلان اور ان کی جماعت کردستان لیبر پارٹی سے براہ راست بات چیت شروع کی۔ یہ بات چیت کامیاب رہی اور عبداللہ اوغلان نے علاحدگی کی تحریک سے دستبردار ہونے کا اعلان کرنے ساتھ قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا بھی اعلان کیا۔

ان کی بھانجی دیلک اوغلان اسی قومی مفاہمتی کوششوں کے تحت اس وقت پارلیمنٹ کی رکن بنی ہیں۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں آنے کے بعد دیلک نے خود کو خواتین اور نوجوانوں کا نمائندہ قرار دیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیلک کا کہنا تھا کہ "میں خواتین اور نوجوانوں کی نمائندہ ہوں ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ میں ہر اس طبقے کی نمائندہ آواز بنوں گی جس کے حقوق کا استحصال کیا جاتا ہے۔ میں کلچر، عقیدے اور زبان کے دائروں سے باہرنکل کر لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑوں گی۔"