.

یمنی فورسز کا حوثیوں کے زیر قبضہ بارڈر کراسنگ پر کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے حوثی باغیوں کو لڑائی میں شکست دینے کے بعد سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع ایک بارڈر کراسنگ پر قبضہ کر لیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یمنی فوج اور ان کے اتحادی جنگجوؤں نے مشرقی صوبے حضرموت میں واقع وضیحہ بارڈر کراسنگ پر حوثی باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد قبضہ کیا ہے اور اس کے بعد وہاں ہزاروں کی تعداد میں یمنی سرحد پار جانے کے لیے جمع ہوگئے ہیں۔

ذرائع نے العربیہ کے سسٹر چینل الحدث کو بتایا ہے کہ '' بارڈر کراسنگ پر صورت حال کو قابو میں لانے کے بعد حوثی مخالف جنگجو عوامی مزاحمتی فورسز کے ساتھ شامل ہوجائیں گے جو اس وقت دو اور گورنریوں مآرب اور الجوف میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔اس کے بعد وہ جنوبی شہر عدن کی جانب بھی پیش قدمی کی تیاری کررہے ہیں''۔

حوثیوں کے زیر انتظام یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا نے ایک فوجی عہدے دار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ بارڈر کے علاقے پر مسلح افراد کے ایک گروپ ،القاعدہ کے جنگجوؤں اور مسلح فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔

صدر منصور ہادی کی وفادار فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد علی المقدیشی نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ سرحدی عملہ بارڈر کراسنگ پر آنے والے مہاجرین کے قافلوں سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔وہاں ملیشیاؤں کی پُرامن شہریوں کے خلاف شروع کی گئی لڑائی سے بچنے کے لیے ہزاروں لوگ آرہے ہیں اور بارڈر کراسنگ کی جانب آنے والے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں اور سعودی فورسز کے درمیان سرحدی علاقے میں حالیہ مہینوں کے دوران جھڑپوں کے بعد سے یمن سے سعودی عرب میں داخلے کے لیے باقی تمام گذرگاہیں بند کردی گئی ہیں۔ایک بارڈر کراسنگ کو توپ خانے سے گولہ باری سے تباہ کردیا گیا تھا۔

سعودی عرب کی قیادت میں حوثی مخالف عرب اتحادی ممالک نے یمن کی بری ،بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے جس کی وجہ سے اس جنگ زدہ ملک میں انسانی بحران پیدا ہوچکا ہے اور دو کروڑ سے زیادہ یمنیوں کو خوراک ،ایندھن اور ادویہ دستیاب نہیں ہیں۔اقوام متحدہ نے یمن کی اس اسّی فی صد سے زیادہ آبادی کے لیے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔