.

عمر البشیر کی عدم گرفتاری، جنوبی افریقی عدالت کی حکومت مخالف کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی افریقا کی ایک عدالت نے سوڈان کے صدرعمر البشیر کے افریقی یونین کے اجلاس میں شرکت کے لیے ملک میں داخل ہونے پر صدر جاکوب زاما سے جواب طلب کرتے ہوئے حکومت کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔

خیال رہے کہ سوڈانی صدرعمر البشیر وسط جون کو جنوبی افریقا میں منعقدہ افریقی یونین کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے جوہانسبرگ کے دورے پر آئے تھے جہاں ایک مقامی عدالت نے عالمی فوج داری عدالت کے حکم پر صدر البشیر کوعبوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا، تاہم عمرالبشیر عدالتی حکم کے بعد فرار ہوگئے تھے۔

جنوبی افریقا کی عدالت کے فاضل جج ڈنسٹان ملامبو کا کہنا ہے کہ "عالمی فوج داری عدالت کے ساتھ ہمارے ملک کے طے پائے معاہدے میں یہ صراحت موجود ہے کہ ہم بین الاقوامی فوج داری عدالت کی شرائط کے پابند ہیں اور عالمی عدالت کو مطلوب کسی بھی صدر مملکت کو ہمارے ہاں تحفظ حاصل نہیں ہے۔" انہوں نے پراسیکیوٹر جنرل کو لکھا کہ وہ صدر البشیر کو گرفتار نہ کرنے پر حکومت کے کردار کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کریں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ عالمی فوج داری عدالت کو مطلوب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جسٹس ملامبو نے بدھ کے روز صدر البشیر کے ملک سے واپس چلے جانے سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقا کی حکومت نے بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق دستور کی خلاف ورزی کی ہے۔ سوڈانی صدر کو گرفتار کرکے عالمی عدالت میں پیش کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری تھی۔

خیال رہے کہ عالمی فوج داری عدالت نے 28 مئی کوجاری بیان میں عمر البشیر کی جنوبی افریقا کے دورے کے دوران گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا تاہم جوہانسبرگ حکومت انہیں گرفتار نہیں کرسکی ہے۔

عالمی عدالت کے نوٹس کے باوجود عمرالبیشر 14 جون کو جوہانسبرگ میں منعقدہ افریقی یونین کے اجلاس میں شریک ہوئے، جہاں ایک نجی تنظیم نے ان کی گرفتاری کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے درخواست یر فیصلہ دیتے ہوئے عمر البشیر کو حراست میں لینے کا عبوری حکم دیا تھا تاہم صدر البشیر اگلے روز خرطوم چلے گئے تھے۔

حکومت کی ناکامی کی وجہ سے سنہ 1994ء سے جنوبی افریقا کی حکمران نیشنل کانگریس کو عدالت اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔