.

آئی سی سی میں اسرائیل مخالف فلسطینی اقدام پر امریکی مخالفت

'فلسطینی اقدام سے امریکی امداد پر اثر نہیں پڑے گا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے مبینہ سنگین جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر امریکی حکومت نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین "پی ایل او" کی جانب سے "آئی سی سی" میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ثبوت مہیا کرنے کے رد عمل میں امریکی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کو "اوچھے ہتھکنڈوں" سے کام نہیں لینا چاہیے۔ فوج داری عدالت میں اسرائیل کے خلاف کارروائی شروع کرانے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکہ اور زیادہ گھمبیر ہوں گے۔

تاہم امریکی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان السٹر پاسکی نے "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگرچہ کانگریس کے بعض ارکان اسرائیل کو عالمی عدالت کے کہٹرے میں لانے کی فلسطینی کوششوں پر سخت ناراض ہیں مگر اس اقدام سے فلسطینیوں کی مالی امداد پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔ فلسطینیوں کی مالی مدد جاری رہے گی۔"

اگر کانگریس فلسطینی اتھارٹی کی امداد روکنے کا کوئی قانون منظور کرتی ہے تو امریکی انتظامیہ کو اس پر عمل درآمد کرنا پڑے گا تاہم امریکا فلسطینیوں کو عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف اس کے جنگی جرائم کی تحقیقات کی درخواست دینے اور جرائم کے ثبوت مہیا کرنے کے بعد ان کی تحقیقات سے نہیں روک سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے بعض ارکان نے اسرائیل نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کو فلسطینیوں کی مالی امداد بند کا کم کرنے کی تجویز دی ہے۔

قبل ازیں ڈیموکریٹس میں اقلیتی امور کی رہ نما میتا لاوری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے عالمی عدالت کو ثبوت مہیا کرنے سے امریکی قانون حرکت میں آسکتا ہے جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی می اقتصادی امداد پر پابندی لگ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کسی ایسے اشتعال انگیز اقدام کے رد عمل میں مالی امداد بند کرنے کی طرف نہیں جائے گی۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ہیگ کی بین الاقوامی فوج داری عدالت میں اسرائیل کے خلاف جرائم کی تحقیقات کی درخواست دی ہے مگر فلسطینی انتظامیہ اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے بہت محتاط قدم اٹھا رہی ہے۔ ابھی فلسطینی اتھارٹی نے وہ سرخ لکیر عبور نہیں کی جو امریکی امداد بند ہونے کا موجب بن سکتی ہے۔

امریکی کانگریس کے ایک مصدقہ ذرائع نے "العربیہ" کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد کی تازہ قسط چند ہفتے ہی قبل ادا کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ایک مسودہ قانون زیر غور ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر فلسطینی انتظامیہ اسرائیل کے خلاف عالمی فوج داری عدالت میں جاتی ہے تو اس صورت میں فلسطینی اتھارٹی کی امداد روک دی جائے۔

یہ امر قابل ذکر رہے کہ امریکا فلسطینی اتھارٹی کی مالی مدد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو سالانہ فلسطینیوں کو 40 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کرتا ہے۔ یہ امداد براہ راست فلسطینی اتھارٹی کو دینے کے ساتھ "این جی اوز" کے ذریعے بھی ترقیاتی اور عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔