.

کویت: مسجد پر داعش کے حملے میں 25 افراد ہلاک

شیعہ مسلک کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش بم دھماکے میں 200 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت شہر کے مصروف کاروباری علاقے الصوابر میں واقع اہل تشیع کی مسجد امام الصادق میں نماز جمعہ کے وقت خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں پچیس افراد جاں بحق اور دوسو دو زخمی ہوگئے ہیں۔عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیرسُنی جنگجو گروپ داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسجد میں نمازجمعہ کی دوسری رکعت کے وقت حملہ آور بمبار اندر داخل ہوا تھا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس عینی شاہد نے مسجد میں بم دھماکے کے نتیجے میں دس افراد کو وہاں خون میں لت پت حالت میں دیکھا ہے اور بتایا ہے کہ بعض کے چیتھڑے اڑ گئے تھے۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا ہے کہ مسجد میں بم دھماکے کے وقت قریباً دو ہزار افراد نماز ادا کررہے تھے۔ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ یہ خودکش بم دھماکا تھا۔رمضان المبارک کے دوران مساجد میں بالعموم نماز جمعہ میں مسلمانوں کا بہت رش ہوتا ہے۔

داعش نے دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بیان پوسٹ کیا ہے جس میں خودکش بمبار کی شناخت ابو سلیمان المواحد کے نام سے کی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کا ہدف ''منکروں کا مندر'' تھا اور اس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجو اہل تشیع کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

داعش نے اس سے پہلے گذشتہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب میں اہل تشیع کی دو مختلف مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ہی خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔تاہم کویت میں شیعہ مسلک کی مسجد پر داعش کا یہ پہلا بم حملہ ہے۔کویت کی کل ملکی آبادی تیرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس میں ایک تہائی شیعہ مذہب کے پیروکار ہیں۔ بم دھماکے کی اطلاع ملتے ہی کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے مسجد امام الصادق کا دورہ کیا ہے۔