.

تیونس میں سیاحوں پر حملے کا ردعمل، مساجد کی تالا بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے سیاحتی علاقے سوسہ میں گذشتہ روز رونما ہونے والی ہلاکت خیز دہشت گردی کی کارروائی میں 39 سیاحوں کے قتل کے بعد حکومت نے ملک کے مختلف علاقوں میں عوام کو مذہبی انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے والی 80 مساجد کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ اعلان تیونسی وزیر اعظم الحبیب الصید نے جمعہ کو رات گئے سرکاری ٹی وی پر کیا۔ انہوں نے حساس علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ریزو فوج بلانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے متعدد پہاری علاقوں کو ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دینے کا بھی اعلان کیا تاکہ وہاں انتہا پسند پناہ نہ لے سکیں۔

تیونسی وزیر اعظم نے ملکی دستور کے مطابق کام نہ کرنے والی جماعتوں کو تحلیل کرنے کے ساتھ ملک میں غیر سرکاری تنظیموں کے قانون پر بھی نظر ثانی اور ان کی فنڈنگ کو حکومتی نگرانی میں دینے سے متعلق متعلقہ قانون میں تبدیلی کا بھی عندیہ ظاہر کیا۔ انہوں نے تیونس کی جنرل پراسیکیوشن کے ساتھ کوارڈی نیشن کی خاطر ملک میں تمام مشتبہ عناصر اور اداروں کے خفیہ سیلز کے خلاف سخت اقدام اٹھانے کا بھی اعلان کیا۔

تیونسی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ جولائی کے آغاز سے آثار قدیمہ اور سیاحتی علاقوں میں سیکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے، اس مقصد کے لئے محکمہ سیاست کے خصوصی سیکیورٹی یونٹس کو سمندری حدود اور ہوٹلوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ستمبر میں دہشت گردی کے عنوان کے تحت قومی کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے اتوار کو نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ ملک میں سیکیورٹی سے متعلق دیگر امور انجام دیئے جا سکیں۔

الحبیب الصید کے مطابق سوسہ دہشت گردی کا شکار بننے والے اکثریتی سیاحوں کا تعلق برطانیہ سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ قومی ذمہ داری ہے۔ 'اپنی صفوں میں اتحاد اور دہشت گردی کی آفت کا مقابلہ کئے بغیر تیونس ان کے خلاف جنگ سے استفادہ نہیں کر سکتا۔'