.

کویت: مسجد پر حملہ کرنے والے سعودی بمبار کی شناخت

خودکش بمبار جمعہ کی صبح پرواز کے ذریعے کویت کے ہوائی اڈے پر پہنچا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویتی حکام نے جمعہ کے روز کویت شہر میں ایک مسجد میں خودکش بم دھماکا کرنے والے بمبار کی شناخت کر لی ہے۔ کویتی وزارت داخلہ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق خودکش بمبار سعودی شہری ہے اور اس کا نام فہد سلیمان عبدالمحسن القباع ہے۔

کویت کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق خودکش بمبار کویت کے علاقے الصوابر میں شیعہ مسلک کی مسجد میں خودکش بم حملے سے چند گھنٹے قبل ہی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اُترا تھا۔اس کے خودکش حملے میں ستائیس افراد جاں بحق اور دو سو ستائیس زخمی ہوگئے تھے۔

کویتی پولیس نے ہفتے کے روز اس خودکش بمبار کو مسجد تک لانے والے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس ڈرائیور کا نام عبدالرحمان صباح عیدان سعود بتایا گیا ہے اور وہ کویت کا غیر قانونی رہائشی ہے۔خودکش بمبار کویت کے علاقے الریجا میں ایک مکان میں حملے سے قبل چُھپا رہا تھا۔

حکام نے اس مکان کے مالک کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک کویتی شہری ہے۔وہ بنیاد پرست ہے اور منحرف نظریات کا حامل ہے۔

کویتی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس خودکش حملے میں ملوث تمام عناصر اور ان کی سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور اس کے پس پردہ تمام معلومات اور حقائق کو منظرعام پر لایا جائے گا۔

ہفتے کے روز ہزاروں کویتیوں نے مسجد امام الصادق میں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے اٹھارہ افراد کی نماز جنازہ میں شدید گرمی کے باوجود شرکت کی تھی۔باقی آٹھ مقتولین کی میتیں تدفین کے لیے عراق کے جنوبی شہر نجف روانہ کردی گئی تھیں۔

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیرسُنی جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ داعش نے دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں خودکش بمبار کی شناخت ابو سلیمان المواحد کے نام سے کی تھی۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کا ہدف ''منکروں کا مندر'' تھا۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجو اہل تشیع کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔