.

تیونسی مزدور نے دہشت گرد کو زخمی کر کے سیکڑوں جانیں بچائیں

منصف میال نے چھت سے دہشت گرد کے سر میں اینٹیں دے ماریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ جمعہ کو تیونس کے ساحلی شہر سوسہ میں مبینہ طورپر دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کے سیف الدین الرزقی نامی دہشت گرد کے سیاحتی مقام پر حملے میں اگرچہ چالیس کے قریب افراد مارے گئے مگر ایک عام مزدور عمارت کی چھت پر چڑھ کر وہاں سے دہشت گرد کے سر پر اینیٹں نہ مارتا تو خدشہ تھا کہ وہ مزید کئی بے گناہ انسانی جانوں سے کھیلتا رہتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کے روز ساحلی شہر میں سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے اُنہیں ہلاک اور زخمی کرنے والے شدت پسند کا تعلق دولت اسلامیہ داعش سے بتایا جاتا ہے۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں سوسہ میں کم سے کم 38 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

برطانوی نیوز چینل "ٹی وی 4" کے نامہ نگار نے اس تیونسی مزدور کی شناخت کی ہے جو اتفاقی طور پر دہشت گردی کے واقعے کے موقع پر موجود تھا۔ منصف میال نامی اس مزدور نے جب دہشت گرد کو فائرنگ کرتے دیکھا تو وہ دوڑ کر ایک ہوٹل کی چھت پر چڑھ گیا اور اوپر سے دہشت گرد کے سرپر اینٹیں مار مار کر اس کے خونی منصوبے کو مزید آگے بڑھانے سے روک دیا۔ سر میں اینٹیں لگنے سے دہشت گرد زمین پر گرپڑا۔ پولیس بہت دیر سے پہنچی اگر منصف المیال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گرد کو نشانہ نہ بناتا تو نامعلوم وہ مزید کتنی جانیں لیتا۔

وہاں پر موجود لوگوں نے منصف میال کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے شدت پسند حملہ آور کے سر میں اینیٹں مار کر بہت سے لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔

برطانوی صحافی سے بات کرتے ہوئے 56 سالہ منصف میال نے کہا کہ "میں نے ایک تیونسی مسلمان کے طور پر اپنا فرض ادا کیا ہے"۔ اس نے بتایا کہ پولیس کے آنے سے قبل میں نے دیکھا کہ دہشت گرد ہوٹل کی عمارت کے باہر اندھا دھند لوگوں پر گولیاں برسا رہا ہے تو میں دوڑ کر اس ہوٹل کی چھت پرچڑھ گیا اور دہشت گرد پر اینٹیں مارنا شروع کردیں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوکر گرگیا تاہم اس کی موت بعد میں ایک سیکیورٹی اہلکار کی گولی لگنے سے ہوئی۔

دہشت گرد کی ہلاکت صوبائی عہدیدار کی گولی سے ہوئی

منصف میال نے نمناک آنکھوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ وہ دہشت گرد کو سوسہ شہر کے ساحل "مریم" ہی پرکیوں نہ نشانہ بنایا کہ اسے اتنے لوگوں کو قتل کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔

برطانوی ٹی وی نے حملہ آور کی ایک فوٹیج نشر کی ہے جس میں اسے پیراکی کے لباس میں ساحل سمندر کے قریب ننگے پائوں چلتے دکھایا ہے۔ اس نے اپنی چھتری اٹھا رکھی ہے اور اسی چھتری میں اس نے پستول چھپا رکھا تھا۔

اخبار الشروق کی رپورٹ کے مطابق جب پولیس اورسیکیورٹی حکام زخمی دہشت گرد کے قریب پہنچے تو اس وقت زندہ تھا۔ اس نے فائرنگ بھی کی تاہم صوبائی ڈائریکٹر برائے سیکیورٹی نے اپنی ذاتی پستول سے پچاس میٹر کی دوری سے دہشت گرد کو نشانہ بنایا اور ایک گولی دہشت گرد کے خاتمے کا موجب بن گئی۔

تیونس کی جامعہ قیروان میں طلباء یونین کے ایک رکن نے داعشی دہشت گرد کے بارے میں بتایا کہ یونیورسٹی میں پانچ ایسے لوگوں کاایک گروپ موجود ہے جن میں سے سیف الدین الرزقی نسبتا نرم اور اعتدال پسند تھا اور دیگر چار اس سے کہیں زیادہ شدت پسندانہ نظریات رکھتے ہیں۔

نشے کا عادی

ایک مقامی نیوز ویب پورٹل"تیونس ڈیجیٹل" نے بھی داعشی دہشت گرد کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد نے ساحل پر کھڑے لوگوں پر فائرنگ کرنے سے قبل اپنا موبائل سمندر میں پھینک دیا تھا تاہم بعد ازاں اسے ڈھونڈ لیا گیا۔

شدت پسند کی عمر24 سال تھی اور وہ ابو یحییٰ القیروانی کے نام سے مشہور تھا۔ اس کا آبائی تعلق سلیانہ ریاست کے قعفور شہر سے تھا اور اس نے جامعہ القیروان سے الیکٹریکل انجینیرنگ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کررکھی تھی۔ ماضی میں اس کے شدت پسندانہ خیالات کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کیونکہ وہ زیادہ تر نشے میں دھت رہتا۔ بھنگ پیتا تھا جس سے اس کے کسی شدت پسند گروپ سے تعلق کا شبہ نہیں تھا۔

کچھ عرصہ اس نے سوسہ کے ساحلی علاقے میں ملازمت بھی کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اندازہ تھا کہ یہاں پر بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ اس نے تیونس کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔