.

اخوان قیادت کی سزائوں کو جلد نمٹانے کے لیے آئینی ترمیم!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی قیادت کو فوجی عدالتوں کی جانب سے عجلت میں سنائی گئی سنگین نوعیت کی سزائوں پر عمل درآمد کی راہ میں آئینی سقم حائل ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل ھشام برکات کے قاہرہ میں ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد مصری حکومت نے آئینی سقم دور کرنے اور اخوان قیادت کو دی گئی سزائوں پر جلد ازجلد عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے منگل کو مقتول پراسیکیوٹر جنرل ھشام برکات کی نماز جنازہ کے موقع پر واضح الفاظ میں کہا کہ وہ دہشت گردوں کو دی گئی سزائوں پرعمل درآمد کی راہ میں حائل آئینی اور قانونی رکاوٹوں کو جلد سے جلد دور کرتے ہوئے انہیں سزا دلوایں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ھشام بشارت کے قتل کا براہ راست تعلق اخوان المسلمون کے ساتھ نہ بھی ہو تب بھی موجودہ فوجی حکومت کی پہلی نظر اخوان پر ہی ہے کیونکہ اس وقت اخوان قیادت ہی زیرعتاب ہے اور ھشام برکات کےقتل کا نزلہ بھی اسی پر گرسکتا ہے۔

صدر عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ "آپ پراسیکیوٹر کے الفاظ کے معانی نہیں جانتے۔ وہ مصر کی آواز تھے اور دہشت گرد مصر کی آواز کو خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ مصری عدلیہ کو مفلوج بنانے کی سازش کررہے ہیں۔ عدلیہ کی جانب سے نہایت سست روی کے ساتھ دہشت گردوں کو دی گئی سزائوں اور ان پر عمل درآمد میں اب مزید کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے دو سال تک حالات کو جوں کا توں چھوڑے رکھا اور کسی دہشت گرد کو دی گئی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کو ان کے کیے کی سزا دیں۔ اب عدلیہ کو زیادہ دیر تک آئینی پابندیوں میں نہیں جکڑا جاسکتا ہے۔ ہم دہشت گردوں کو دی گئی سزائوں پر عمل درآمد کے لیے جلد از جلد آئین میں ترامیم کریں گے۔

صدر السیسی کہہ رہے تھے کہ ہمیں کسی اندرونی اور بیرونی دبائو کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہم کسی کا کوئی مطالبہ خاطر میں نہیں لاتے۔ ہمارے پیش نظر صرف مصری عوام کا مفاد عزیز ہے اورجو کچھ کریں گے ملک وقوم کےمفاد میں کریں گے۔

صدر عبدالفتاح السیسی کے الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں سے ان کی مراد صرف بم دھماکے کرنے میں ملوث شدت پسند نہیں بلکہ ان کے اقتدار کے لیے خطرے کا باعث بننے والی اخوان المسلمون کی قیادت بھی شامل ہے۔ صدر آئین میں کس نوعیت کی ترامیم لانا چاہتے اور ان ترامیم کے اخوان قیادت کو دی گئی سزائوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا جواب مصری صدر کی گذشتہ روز کی تقریر سے بھی ملتا ہے۔

اخوان المسلمون کی قیادت کو "رابعہ العدویہ" کے واقعے میں پھانسی کی سزائیں سنانے والی فوجی عدالت کے چیف جسٹس ناجی شحاتہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے مجوزہ آئینی ترامیم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں وزیر انصاف مجوزہ آئینی ترامیم پیش کریں گے۔ صدر کی جانب سے ان ترامیم کی منظوری کے بعد اخوان المسلمون کی قیادت کو دی گئی سزائوں پرعمل درآمد میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں رہے گی اور دی گئی سزائوں کو جلد از جلد نمٹایا جائے گا۔

انہوں نے مجوزہ آئینی ترامیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تین قسم کی آئینی ترامیم پیش کی منظوری پیش نظر ہے۔ پہلی ترمیم یہ کہ صدر جمہوریہ سپریم کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائوں کو من وعن اور بغیر کسی کمی بیشی کے منظورکریں گے۔ دوم یہ کہ فوجی نوعیت کی سزائوں پر ویٹو کو ایک درجہ کی فوقیت حاصل ہوگی اور سوم یہ کہ ملزم کے دفاع میں پیش ہونے والے گواہوں کو سننا عدالت کا اختیار فیصلہ ہوگا۔ عدالت چاہے تو وکلائے دفاع اور گواہان دفاع کی بات سننے سے انکار کردے"۔

جسٹس ناجی شحاتہ کا کہنا تھا کہ آئینی رو سے صدر عدالتی فیصلے کو کم سے کم 30 اور زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر اندر منظور کرے گا۔ صدر کی جانب سے منظوری ملنے کے فوری بعد سزائوں پرعمل درآمد کیا جاسکے گا تاکہ عدالتوں پر مقدمات کو طویل عرصے تک لٹکائے رکھنے کا الزام نہ تھوپا جاسکے۔

مصرمیں سزائوں کے نفاذ سے متعلق آئین میں مجوزہ ترامیم اور ان کے سیناریو پربات کرتے ہوئے مصری دانشور اور ماہر قانون ڈاکٹر ابراہیم عید نے "العربیہ" کو بتایا کہ صدر السیسی کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو جلد ازجلد کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے آئینی رکاوٹیں ختم کرنا چاہتے ہیں دراصل وہ دوسرے دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ اخوان قیادت کو دی گئی سزائوں کو بھی نمٹانے کا اشارہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصر کے سابق معزول صدر حسنی مبارک نے بھی اپنے دور میں دہشت گردی اور اخوان کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجا تھا۔ ان میں جامعہ الازھرمیں موجود ملیشیا کا مشہور مقدمہ جیسے اہم مقدمات شامل ہیں۔

چونکہ ماضی میں دہشت گردوں کو دی گئی سزائوں کو ایک سے دوسری عدالتوں میں لے جانے کا مشغلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کی وقعت کم ہوئی اور سزائوں پرعمل درآمد تعطل کا شکار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت مقدمات کو عدالتوں کے چکر لگوانے کے بجائے ان پرحتمی فیصلے چاہتی ہے۔ چونہ آئین کی دفعہ 71 جو حسنی مبارک کے دور میں بھی آئین کا حصہ تھی اب بھی اپنی جگہ موجود ہے جو صدر کو کسی بھی حساس ملزم کا کیسز فوجی عدالتوں کے حوالے کرنے اور اس پر جلد ازجلد فیصلہ حاصل کرانے کا اختیار دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصری آئین میں ملزمان کو دی گئی سزائوں پرعمل درآمد سے متعلق ایک پرانے قانون پربھی ترامیم زیرغور ہے۔ صدر السیسی جن آئینی ترامیم کی بات کرتے ہیں ان میں سنہ 1950ء کے دور سے چلے آرہے قانون میں ترمیم بھی شامل ہے جس میں مقدمات کو مسلسل التواء میں رکھا جاتا رہا ہے۔

سنہ 1992ء میں مصرنے دہشت گردی میں ملوث افراد کی سزائوں کو جلد از جلد نمٹانے کا قانون منظور کیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد آئین کی یہ شق بھی تبدیل کردی گئی جس کا خاطر خواہ فائدہ دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کو ہوا۔ ترمیم کے بعد قانون میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر دو بار "ویٹو" کا اختیار دیا گیا اس کے ساتھ ہی ملزمان کو فوجی مقدمات میں بھی اپیل کا حق دیا گیا۔ جب کوئی انتظامی عدالت فوجی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل منظور کرلیتی تو اس کے بعد مقدمات غیرمعینہ مدت تک طول پکڑجاتے تھے۔ صدر عبدالفتاح السیسی اس نوعیت کے قوانین کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔