.

کویت :جنگجوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن، دو پولیس افسر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں حکام نے اسلامی جنگجوؤں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران دو پولیس افسروں کو گرفتار کر لیا ہے۔کویتی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ جمعہ کو اہلِ تشیع کی مسجد میں خودکش بم دھماکے کے بعد سے مشتبہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے۔

اس خودکش بم دھماکے میں ستائیس افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے اور کویتی حکومت نے دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد داعش کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر کہیں بھی موجود داعش سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔

کویتی روزنامے الرائی کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک طالب علم کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران ہتھیار ،گولہ بارود ،نقشے اور داعش کے حق میں نعروں والا مواد برآمد کیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے ایک اور مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے پولیس افسروں سے ہتھیار لینے کا اعتراف کیا ہے۔

خودکش بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے کویتی حکام نے اب تک قریباً نوّے مشتبہ افراد کو پکڑ لیا ہے۔ان میں سے دس مشتبہ افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے کیس پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کردیے گئے ہیں۔ان میں سعودی ،کویتی اور غیر ریاستی شہری شامل ہیں۔ان میں سے پانچ افراد پر کویت شہر کے علاقے الصوابر کی مسجد امام الصادق میں خودکش بم دھماکا کرنے والے سعودی بمبار کی براہ راست مدد کرنے کا الزام ہے۔