.

الولید بن طلال کا ساری دولت خیرات کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال نے اپنی تمام دولت یعنی بتیس ارب ڈالر فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ یہ پیسہ آئندہ برسوں کے دوران فلاح عامہ کے منصوبوں پر خرچ کریں گے۔

ساٹھ سالہ سعودی شہزادے الولید بن طلال کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خیراتی کاموں کے لیے پیسہ وقف کرنے کا یہ اعلان ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم کو مستحکم بنانے کے سلسلے میں پُل بنانے کا کام دے گا، اس سے کمیونٹیز کو ترقی دی جا سکے گی، خواتین کو با اختیار بنایا جا سکے گا، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جلا دی جا سکے گی، آفات کی صورت میں اشد ضروری امداد فراہم کی جا سکے گی اور ایک زیادہ روادار اور بہتر دنیا تخلیق کی جا سکے گی‘۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیسہ اچھی طرح سے سوچ سمجھ کر تیار کیے گئے ایک پلان کے مطابق آئندہ برسوں کے دوران خرچ کیا جا ئے گا۔ اس بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اس عطیے کو خرچ کرنے کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں رکھی گئی ہے۔

الولید بن طلال کے مطابق اُن کی اپنی سربراہی میں قائم امین لوگوں کا ایک بورڈ ان سارے فنڈز کے استعمال کی نگرانی کرے گا اور یہ کہ اُن کی موت کے بعد بھی یہ پیسہ انسانی بھلائی کے مختلف منصوبوں اور دیگر پروگراموں کے لیے خرچ کیا جاتا رہے گا۔

اپنی کمپنی کے ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس میں الولید نے کہا کہ اُنہوں نے یہ اعلان ریاست ہائے متحدہ امریکا میں قائم ’دی میلنڈا اینڈ بل گیٹس فاؤنڈیشن‘ کی طرز پر کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنی کمپنی کے مرکزی دفتر کی چھیاسٹھ ویں منزل پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’اس اعلان کا میری کمپنی ’کنگڈم ہولڈنگ‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس اعلان سے اس لمیٹڈ کمپنی کے شیئرز کی قیمتوں پر کوئی فرق پڑے گا۔‘‘

کنگڈم ہولڈنگ نامی کمپنی نے، جس کے سربراہ الولید بن طلال ہیں، میڈیا کے شعبے میں سرمایہ کاری کے علاوہ یورو ڈزنی پارک سے لے کر فور سیزنز ہوٹلوں اور سٹی گروپ میں بھی پیسہ لگا رکھا ہے۔ الولید بن طلال ہی بحیرہٴ احمر کے کنارے واقع شہر جدہ میں وہ مینار نما عمارت تعمیر کر رہے ہیں، جس کی بلندی ایک کلومیٹر سے زیادہ (تقریباً تین ہزار تین سو فٹ) ہو گی اور جو اپنی تکمیل کے بعد دنیا کی بلند ترین عمارت ہو گی۔

رواں سال کے آغاز پر الولید نے بحرین میں ایک عرب نیوز چینل کا افتتاح کیا تھا تاہم اسے پروگرام نشر کرتے چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ اسے بند کر دیا گیا۔ اب اس چینل کے ہیڈکوارٹر کے لیے کوئی اور جگہ تلاش کی جا رہی ہے۔

الولید بن طلال کے مطابق وہ گذشتہ پینتیس برسوں سے زائد عرصے کے دوران ’الولید فلانتھروپیز‘ کے تحت پہلے ہی ساڑھے تین ارب ڈالر کی رقم فلاحی کاموں پر خرچ کر چکے ہیں۔ اس ادارے کے تحت سعودی عرب کی دور دراز آبادیوں میں گھر تقسیم کرنے اور اُنہیں بجلی فراہم کرنے کے علاوہ دنیا بھر میں منصوبوں کے لیے عطیات فرام کیے گئے۔

الولید نے کہا کہ اُنہوں نے آج کا یہ اعلان دو سال کی تیاریوں اور اس امر کو یقینی بنانے کے بعد کیا ہے کہ یہ منصوبے اُن کی زندگی کے بعد بھی جاری و ساری رہیں۔ اس پریس کانفرنس کے موقع پر الولید کا بیٹا شہزادہ خالد اور بیٹی شہزادی ریم بھی اُن کے ہمراہ تھے، جو الولید بن طلال کے بقول اُن کی موت کے بعد اس فلاحی منصوبے کے صدر اور نائب صدر ہوں گے۔

شہزادہ الولید کا کہنا تھا کہ ’اپنے عروج کے موقع پر انسان کو کچھ ڈرامائی اور انتہائی نوعیت کے فیصلے کرنے چاہییں‘۔ اُنہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ وہ آج کل بھی اچھی صحت کے مالک ہیں اور صحت مند رہنے کے لیے روزانہ تین گھنٹے سائیکل چلاتے ہیں۔