.

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق یو این کی مثبت رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی نئی رپورٹ جاری کردی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے عبوری سمجھوتے کے تحت بنیادی تقاضے کو پورا کردیا ہے۔اب اس کے پاس افزودہ یورینیم کی کئی ٹن مقدار کم ہوگئی ہے۔

آئی اے ای اے نے اپنی اس خفیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے چار ٹن سے زیادہ افزودہ یورینیم کو آکسائیڈ میں تبدیل کرنے کے لیے پائپ لائن میں ڈال دیا ہے اور اب اس افزودہ یورینیم کو جوہری بم کی تیاری میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

ایک امریکی عہدے دار نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ پائپ لائن میں موجود افزودہ یورینیم کو آکسائیڈ ہی کی ایک اور شکل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اب اس کو دوبارہ افزودہ یورینیم کی شکل میں لانا مشکل ہوگا۔

اس عہدے دار کے بہ قول ایران کو درپیش فنی مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی کا شکار ہوا ہے لیکن امریکا کو اس امر پر اطمینان ہے کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی مقدار کو کم کرنے کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کردیا ہے۔

تاہم اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ باقی مواد کہاں گیا ہے؟ لیکن امریکی حکام کے بہ قول بظاہر اس سے لگتا ہے کہ باقی افزودہ یورینیم کو بھی تبدیل کیا جارہا ہے کیونکہ آئی اے ای اے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی باقی ماندہ مقدار ایران کے کم درجے کی افزودہ یورینیم کی مقدار میں شامل نہیں ہے۔

کم تر افزودہ یورینیم کو جوہری ہتھیار کی تیاری میں استعمال کرنے کے لیے مزید افزودہ کیا جاسکتا ہے۔عبوری سمجھوتے کے تحت ایران کی کم تر افزودہ یورینیم کی مقدار 7.6 ٹن بتائی گئی تھی۔اگر یہ مقدار اس سے بڑھتی ہے تو اس اضافی مقدار کو آکسائیڈ میں تبدیل کرنا ہوگا۔

آئی اے ای اے کے پینتیس ارکان پر مشتمل بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں یہ نئی رپورٹ تقسیم کردی گئی ہے۔بدھ کو اس رپورٹ کے اجراء کے بعد آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو تہران کے لیے روانہ ہوگئے تھے جہاں وہ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔

یوکیا امانو نے تہران پہنچنے کے بعد جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام تصفیہ طلب امور کو طے کرنے کا عمل تیز کیا جائے گا۔ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق مسٹر امانو کو جوہری سائنسدانوں سے پوچھ تاچھ کے حوالے سے ایران کی جانب سے ایک متبادل تجویز پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو جوہری سائنسدانوں اور عسکری مقامات تک رسائی دینے کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ امریکا اور اس کے یورپی اتحادی ممالک اس امر پر اصرار کررہے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت کی جانچ کے لیے معائنے کا ایک ٹھوس اور قابل اعتماد میکانزم ہونا چاہیے اور اس کے بغیر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بے معنی ہوگا۔

درایں اثناء ویانا میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔انھوں نے جوہری معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نے بات چیت میں پیش رفت کی ہے اور ہم آیندہ بھی پیش رفت کرتے رہیں گے۔جان کیری نے بھی مذاکرات میں بعض مشکل ایشوز کے باوجود پیش رفت کی نوید دی ہے۔

واضح رہے کہ طرفین کے درمیان ایران پر عاید پابندیوں کے خاتمے اور اس کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے میکانزم وضع کرنے کے حوالے سے اختلافات طے نہیں کیے جا سکے ہیں۔امریکی اور یورپی مذاکرات کار اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ اگر ایران مجوزہ معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پھر اس پر امریکا ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عاید کرنے کا ایک خود کار نظام وضع کیا جانا چاہیے۔