.

لیبی وزیراعظم اپنے مخالفین سے امن معاہدے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیراعظم عبداللہ الثنی نے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت طرابلس میں اپنی متحارب حکومت کے نمائندوں کے ساتھ آج جمعرات کو مراکش میں امن سمجھوتے پر دستخط کے خواہاں ہیں۔

انھوں نے مالٹا کے مختصر دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''امن سمجھوتے کے حامی اور مخالفین موجود ہیں اور کوئی بھی فیصلہ جب کیا جاتا ہے تو ہمیشہ اس کے دشمن بھی ہوتے ہیں مگر لیبیا کے دانش مند لوگ تنازعے کا حل چاہتے ہیں''۔

عبداللہ الثنی نے کہا کہ ''قومی اتحاد کی حکومت تشکیل پاجاتی ہے تو اس کے دفاتر طرابلس ہی میں قائم ہوں گے''۔تاہم انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ اس حکومت کا سربراہ کون ہوگا؟ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ''اس سربراہ حکومت کو مقبول عوامی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔مجھے اعتماد ہے کہ اس کو بہت زیادہ حمایت حاصل ہوگی اور یہی بہتر انتخاب ہوگا''۔

واضح رہے کہ گذشتہ قریباً ایک سال سے لیبیا میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان چل رہی ہیں۔دارالحکومت طرابلس پر اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا نے قبضہ کررکھا ہے اور اسی کی حکومت قائم ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیبیا کے مشرقی شہروں طبرق اور بیضاء دفاتر قائم ہیں اور اس کی حامی پارلیمان کے اجلاس بھی انہی شہروں میں منعقد ہوتے ہیں۔

گذشتہ سال اگست سے ان دونوں حکومت کے تحت فورسز کے درمیان ملک کے مختلف علاقوں میں لڑائی بھی جاری ہے۔وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت اور فجر لیبیا کے تحت حکومت کے نمائندے گذشتہ نو ماہ سے لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون کی ثالثی میں طرابلس میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام اور شراکت اقتدار کا معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مراکش میں فریقین کے درمیان جاری مذاکرات میں حالیہ دنوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ ان کے درمیان جلد جنگ بندی اور مشترکہ حکومت کے قیام کے لیے معاہدہ طے پاجائے گا۔