.

تیونس :ہوٹل حملے کے الزام میں 12 مشتبہ افراد گرفتار

مشتبہ ملزموں پر پڑوسی ملک لیبیا میں عسکری تربیت حاصل کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حکام نے سیاحتی شہر سوسہ میں سمندر کنارے واقع ایک ہوٹل کے باہر فائرنگ کرنے والے ملزم سے تعلق کے شُبے میں بارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور وہ لیبیا میں ایک جہادی کیمپ میں حملہ آور کے ساتھ تربیت پانے والے دو اور افراد کی تلاش میں ہیں۔

تیونس کے پارلیمانی امور کے وزیر الازہرعکرمی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''اس گروپ کو لیبیا میں تربیت دی گئی تھی اور ان کے بھی باردو اور سوسہ میں حملے جیسے ہی مقاصد تھے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''گذشتہ جمعہ کو سوسہ میں حملے کے شُبے میں پہلے بھی بارہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے''۔عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی لیکن حکام کا کہنا ہے کہ مسلح حملہ آور جہادیوں کے لیے لڑنے کے شُبے میں پولیس کی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا۔

تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ سوسہ اور دارالحکومت تیونس میں واقع مشہور باردو میوزیم پر حملے کرنے والوں نے گذشتہ سال کے آخر میں لیبیا کے بد امنی کا شکار جنوبی سرحدی علاقے میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔

تیونس کے مشہور ساحلی سیاحتی مقام سوسہ میں ایک ہوٹل کے احاطے میں گذشتہ جمعہ کے روز ایک مسلح شخص نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں اڑتیس افراد ہلاک اور انتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں جرمن ،برطانوی اور بیلجئین سیاح شامل تھے۔وہ اختتام ہفتہ منانے کے لیے تیونس آئے تھے۔

تیونس میں غیرملکی سیاحوں پر اس سال یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔اس سے پہلے دارالحکومت تیونس کے مشہور باردو عجائب گھر پر 18 مارچ کو مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔اس واقعے میں غیرملکی سیاحوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے تیونس کے اس تاریخی عجائب گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔