.

دوسرا نامزد افغان وزیر دفاع بھی پارلیمنٹ سے مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغاں پارلیمنٹ نے نئے وزیر دفاع کے طور پر حکومت کے نامزد کردہ دوسرے امیدوار محمد معصوم ستانک زئی کی تقرری کی منظوری دینے سے بھی انکار کر دیا۔ پہلی نامزدگی جنوری میں رد کی گئی تھی۔

دارالحکومت کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق افغان وزیر دفاع کے عہدے پر ہفتہ کے روز دوسری حکومتی نامزدگی کے بھی مسترد کیے جانے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ صدر اشرف غنی کی حکومت کو آئندہ بھی کچھ عرصے تک اس طرح کام کرنا پڑے گا کہ وزیر دفاع کا عہدہ خالی ہی رہے گا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت کابل حکومت کے لیے سیاسی طور پر بھی نقصان کا باعث بنے گی کیونکہ جب سے افغانستان سے نیٹو کے جنگی دستے واپس گئے ہیں، کابل حکومت کی سکیورٹی فورسز کو طالبان عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور عسکری کامیابیوں کا سامنا ہے۔

نئے وزیر دفاع کے طور پر معصوم ستانک زئی کی نامزدگی کی توثیق کے لیے کابل کی پارلیمان میں ہفتے کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 231 ارکان نے حصہ لیا۔ ان میں سے ستانک زئی کی تقرری کی حمایت کرنے والے ارکان کی تعداد صرف 84 رہی جبکہ انہیں کم از کم بھی 107 ووٹ درکار تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری کے نتائج سے ظاہر ہو گیا ہے کہ صدر اشرف غنی کی حکومت کو ملکی پارلیمان میں کتنا کم اثر و رسوخ حاصل ہے۔ دوسری طرف یہ بات عام افغان شہریوں میں اس وجہ سے بھی بے چینی کا سبب بن رہی ہے کہ اشرف غنی کو منصب صدارت سنبھالے ہوئے نو مہینے ہو چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک اپنی کابینہ کی تشکیل بھی مکمل نہیں کر پائے۔

محمد معصوم ستانک زئی افغانستان کے ایک سابق امن مندوب ہیں، جنہیں مئی کے مہینے میں عبوری وزیر نامزد کیا گیا تھا۔ انہوں نے نگران وزیر کے طور پر اپنی ذمے داریاں ایسے وقت پر سنبھالی تھیں جب اتحادی جنگی دستوں کے انخلاء کے بعد طالبان عسکریت پسند کئی علاقوں میں افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف عسکری کامیابیاں حاصل کر رہے تھے۔

صدر اشرف غنی نے وزیر دفاع کے عہدے پر جس پہلی شخصیت کو نامزد کیا تھا، وہ افغان فوج کے سابق سربراہ شیر محمد کریمی تھے۔ ان کی نامزدگی کو ملکی پارلیمان نے جنوری میں مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد اشرف غنی نے محمد افضل لُودین کو وزیر دفاع بنانے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی تھی اور ان کی نامزدگی پر پارلیمان میں رائے شماری کی نوبت ہی نہیں آئی تھی۔

معصوم ستانک زئی کی نامزدگی کے مسترد کیے جانے کے بعد افغان پارلیمان کے اسپیکر عبدالرؤف ابراہیمی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم افغانستان کے صدر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملکی وزیر دفاع کے عہدے کے لیے جلد سے جلد کسی نئے امیدوار کو نامزد کریں۔‘‘