.

غزہ جنگ میں جنگی جرائم کا احتساب کیا جائے: یو این کونسل

انسانی حقوق کونسل نے یو این رپورٹ کے تناظر میں قرارداد منظور کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم 'ہیومن رائٹس کونسل' نے پچھلے سال غزہ میں ہونیوالی جنگ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔

جنیوا میں قائم ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے پیش کئے جانیوالے موقف کا کوئی لازمی اثر تو ممکن نہیں مگر اس سے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے دبائو ضرور بڑھ جائیگا۔

اسرائیل نے عالمی ادارے کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام یکطرفہ نوعیت کا ہے اور اس میں اس حقیقت کو نظر انداز کردیا گیا ہے کہ اسرائیل پچھلےسال غزہ میں ہونیوالی جنگ کی 'ممکنہ' مظالم کی تحقیقات بذات خود کررہا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 47 میں سے 41 ارکان نے ایک ایسی قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا ہے جس میں ایک یو این رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں دونوں ہی نے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

پانچ ممالک نے اس ووٹنگ میں حصہ نہ لیا جبکہ امریکا نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ یورپی ممالک نے اس قرارداد کی حمایت کی مگر انہوں نے رپورٹ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیلی شہری علاقوں پر راکٹ حملوں کا ذکر نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونیوالی جنگ کے دوران 2200 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے تھے جن میں سینکڑوں شہری بھی شامل تھے جبکہ اسرائیل کی طرف 73 افراد ہلاک ہوگئے جن میں چھ شہری شامل ہیں۔

اس قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور تمام متاثرین کو موثر تلافی کی جائے۔

اسرائیل نے اپنے فوجیوں پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے عالمی فوجداری عدالت میں شمولیت کے بعد ان الزامات کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں کیوںکہ وہ پہلے ہی اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی درخواست پر عمل کروا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل حقائق میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے اور اسے انسانی حقوق میں بھی دلچسپی نہیں ہے۔"

اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ابراہیم خریشی نے بھی اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا "میرے خیال میں جو لوگ اس قرارداد کی مخالفت کررہے ہیں اور جو لوگ ووٹنگ میں حصہ لینے سے پرہیز کررہے ہیں وہ دونوں فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم میں برابر کے شریک ہیں۔"