.

کویت: دہشت گردی نے شیعہ، سنی متحد کردیے، اجتماعی نماز جمعہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں پچھلے جمعہ کواہل تشیع کی جامع مسجد امام جعفر الصادق میں ہونے والے خودکش حملے کا ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ دہشت گردی کی اس خونی واردات نے اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع کو باہم متحد کردیا ہے۔ شیعہ سنی اتحاد کا قابل تحسین مظاہرہ کل جمعہ کو کویت کی مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں دیکھا گیا جہاں دونوں مسالک کے پیروکاروں نے ایک دوسرے کے آئمہ کے پیچھے نماز جمعہ ادا کی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کویت میں نماز جمعہ کے اجتماعات کے موقع پر تمام مساجد میں سیکیورٹی کے فول پروف انتطامات کیے گئے تھے۔ قبل ازیں شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کی جانب سے جامع مسجد امام جعفر الصادق میں دہشت گردی کے واقعے کی طرز پر مزید حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سے پیوستہ جمعہ کو کویت میں اہل تشیع کی ایک جامع مسجد میں ہونے والے خود کش حملے میں کم سے کم 23 نمازی شہید اور 200 سے زاید زخمی ہوگئے تھے۔

ادھر جمعرات کے روز کویت میں ہونے والے خلیجی ممالک کے وزراء داخلہ اجلاس میں بھی ملک میں امن امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کویتی عوام کے جذبے، ہمت اور حوصلے کی تحسین کی گئی۔ اس موقع پر دہشت گردوں کو اور فتنہ پرور عناصرکو وارننگ دی گئی کہ وہ باز آجائیں ورنہ ان کی شرانگیزی کا انہیں خمیازہ بھگتنا ہوگا۔