.

'العربیہ' ٹیم کی تیونسی سیاحوں کے قاتل کے والدین سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" نیوز چینل کی ٹیم نے ایک ہفتہ قبل ساحلی شہر سوسہ میں درجنوں سیاحوں کے قاتل دہشت گرد کے والدین سے ملاقات کی۔ دہشت گردی کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سیف الدین الرزقی کے والد نے بتایا کہ انہیں بالکل یقین نہیں کہ ان کا بیٹا دہشت گردی کی ایسی خوفناک کارروائی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "العربیہ" کی ٹیم تیونس کے شمال مغربی شہر قعفور میں دہشت گردی کےدوران ہلاک ہونے والے سیف الدین کے والدین سے ملنے ان کے ایک چھوٹے مکان میں پہنچی تو اس کے والد نے تفصیل اور اطمینان کے ساتھ بات چیت کی تاہم والدہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ اسی چھوٹے سے مکان میں سیف الدین الرزقی 23 سال قبل سنہ 1992ء کو پیدا ہوا۔

العربیہ کی نامی نگار نے مقتول الرزقی کے والد سے بیٹے کی تعلیم اور انتہا پسندی طرف رغبت کے بارے میں سوالات کیے۔

'میں نہیں مانتا کہ بیٹا دہشت گرد تھا'

جب سیف الدین کے والد عبدالحکیم سے بیٹے کی عسکری سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بیٹے کی ایک برائی ہماری نظر میں تھی۔ وہ اس کا نشہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ ہم بالکل بھی یقین نہیں کرسکتے کہ اس نے لیبیا میں جا کر عسکریت پسندی کی تربیت حاصل کی تھی۔ والد نے بتایا کہ بیٹا ایک خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھا، اس نے اسکول اور کالج سے ایک دن بھی غیرحاضری نہیں۔ اس لیے میں یہ بات کیسے مانوں کہ اس نے لیبیا میں جا کر عسکری پسندی کی تربیت حاصل کی تھی۔ عبدالحکیم الرزقی نے بتایا کہ جس صبح سیف الدین نے ساحلی شہر میں دہشت گردی کی واردات کی اس رات وہ اپنے گھر پر تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو نشے کی لت کی وجہ سے دھوکہ دے کر بہلایا پھسلایا گیا اور اس سے دہشت گردی کرائی گئی ہے۔

سیف الدین الرزقی کی والدہ راضیہ المناعی مسلسل روئے جا رہی تھیں۔ ان سے متعدد سوالات کیے گئے مگر وہ کسی ایک کا بھی جواب نہیں دے پائیں۔ تاہم والدین نے تیونسی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس کے بیٹے کی میت ان کے حوالے کریں۔

آخر میں مقتول شدت پسند کے والد نے بیٹے کی تصاویر اور اس کی تعلیمی اسناد کو بھی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے پر اصرار کیا۔

خیال رہے کہ جون کے آخر میں تیونس کے ساحلی شہر سوسہ میں سیف الدین الرزقی نامی دہشت گرد نے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے انتالیس سیاح ہلاک اورسیکڑوں کو زخمی کردیا تھا۔ پولیس کی فائرنگ سے وہ خود بھی مارا گیا تھا۔