.

اسرائیل:ایران پر پابندیاں ہٹانے کے ممکنہ فیصلے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر ممکنہ معاہدے کی صورت میں تہران پر عاید پابندیوں کے خاتمے کے ممکنہ فیصلے کی مذمت کردی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''جونہی پابندیوں کا خاتمہ ہوگا،دسیوں یا سیکڑوں ارب ڈالرز ایرانی معیشت کا حصہ بن جائیں گے''۔

بیان کے مطابق ''اس سے واپسی کا امکان نہیں ہوگا۔اس وقت پوری دنیا میں فعال ایرانی دہشت کی مشین مزید مضبوط ہوجائے گی''۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے نمائندوں اس وقت جوہری پروگرام پر تنازعے کو طے کرنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی غرض سے مذاکرات کررہے ہیں۔یہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں ایران اپنے حساس نوعیت کے جوہری پروگرام سے دستبردار ہوجائے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید امریکا ،اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی عاید پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔

امریکا اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اس شُبے کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران اس کی تردید کرتا چلا آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن سویلین مقاصد کے لیے ہے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم کے بیان میں ایران کو دنیا میں سب سے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

''ہمیں ایران کو دنیا کا خطرناک ہتھیار بنانے اور نہ دہشت گردی کے ریزروز رکھنے کی اجازت دینی چاہیے۔جتنا زیادہ وقت گزرے گا،بڑی طاقتیں ایران کو زیادہ سے زیادہ رعایتیں دیں گی''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی واحد غیر علانیہ جوہری طاقت ہے اور وہی ایران کے جوہری پروگرام کی سب سے زیادہ مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔وہ یہ واضح کرچکا ہے کہ وہ ایران اور امریکا ،برطانیہ ،چین ،رو س ،فرانس اور جرمنی کے درمیان کسی بھی مجوزہ معاہدے کی مخالفت کرے گا۔اسرائیل ایران کو اپنے لیے ایک خطرہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کو افزودہ کرنے کے اپنے تمام دھانچے ہی کو ختم کردے۔