.

اقوام متحدہ ایلچی کا یمن میں جنگ بندی کے لیے تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں اور اس سلسلے میں ان کی آج اتوار کو صنعا میں آمد متوقع تھی۔وہ یمن کے متحارب فریقوں کے ساتھ انسانی بنیاد پر جنگ بندی سے متعلق تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

انھوں نے قبل ازیں سعودی عرب میں جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ الریاض میں جنگ بندی کےحوالے سے بات چیت کی ہے تاکہ جنگ سے متاثرہ افراد تک امداد بہم پہنچائی جاسکے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت یمن کی اسّی فی صد سے زیادہ آبادی کو فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے جبکہ ملک کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

حوثی تحریک کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ہفتے کے روز اپنے فیس بُک صفحے پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ انھوں نے اسماعیل ولد شیخ احمد سے ملاقات کی ہے اوران سے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اسی ہفتے یمن کے متحارب فریقوں سے رمضان المبارک کے دوران انسانی بنیاد پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ بین الاقوامی امدادی ادارے متاثرہ افراد کو درکار خوراک ،ایندھن اور ادویہ مہیا کرسکیں۔

درایں اثناء یورپی یونین نے بھی یمن میں قابل پیشین گوئی اور پائیدار جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔تنظیم نے سعودی عرب کی قیادت میں فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مال بردار جہازوں کو یمنی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے کے لیے ناکا بندی میں نرمی کریں۔