.

مصر:نہر سویزحملہ سازش ،اخوان کے 13 ارکان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام نے کالعدم جماعت اخوان المسلمون کے تیرہ ارکان کو نہرسویز کے ارد گرد بم نصب کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان تیرہ افراد نے ایک سیل تشکیل دے رکھا تھا اور ان میں سویز کنال اتھارٹی کا ایک ملازم بھی شامل تھا۔پراسیکیوٹرز نے انھیں پندرہ روز کے لیے زیر حراست رکھنے کا حکم دیا ہے اور یہ الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے سینی ٹیشن اور بجلی کی تنصیبات کے ارد گرد بم نصب کیے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سوموار کو مصر کے پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات کی دارالحکومت قاہرہ میں خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد سے صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے وابستگان کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ملک کی اس سب سے قدیم جماعت کے بچے کھچے ارکان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے اور ان پر سکیورٹی فورسز پر بم حملوں اور بم دھماکوں کی سازشوں کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔

دوسری جانب اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ وہ ایک پُرامن جماعت ہے اور اس کا تشدد سے کوئی لینا دینا نہیں۔اس کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف پُرامن جدوجہد جاری رکھےگی۔

مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013ء کو ملک کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کردیا تھا اور اس کے بعد ان کے تحت سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے دوران اس جماعت کے دو ہزار سے زیادہ ارکان کو ہلاک کردیا تھا اور ہزاروں کو پابندِ سلاسل کردیا گیا ہے۔

اس دوران مصر کا سرکاری میڈیا بھی اخوان المسلمون کے کھاتے میں وہ جرائم ڈالنے کی کوشش کررہا ہے جو اس نے کبھی کیے ہی نہیں ہیں اور وہ اخوان کے کارکنان کو دہشت گرد کے طور پر پیش کررہا ہے جبکہ مصری حکومت بھی اخوان المسلمون اور داعش کے درمیان کوئی تمیز نہیں کرتی ہے اور وہ ان دونوں کے ارکان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے مصری سکیورٹی فورسز نے قاہرہ کے نواحی علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر دھاوا بول کر نو افراد کو ہلاک کردیا تھا۔وزارت داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ تمام مہلوکین مسلح تھے اور وہ حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ان میں اخوان کے ایک سرکردہ وکیل اور سابق رکن پارلیمان بھی شامل تھے۔اخوان المسلمون نے حکومت کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ یہ افراد مسلح تھے بلکہ اس کے بہ قول یہ افراد ایک تنظیمی اجلاس منعقد کررہے تھے۔