.

داعش امریکی مسلمان بھرتی کرنے میں کوشاں ہے: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی "داعش" امریکی مسلمانوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مسٹر اوباما کا مزید کہنا تھا کہ داعش کے خلاف جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔ فوجی کارروائی کے علاوہ اس جنگ کے لیے دوسرے ذرائع کوبھی اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی فوج نے "داعش" کے خلاف آپریشن کے بعد سے ابتک داعش کے ٹھکانوں پر 5 ہزار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔ ان حملوں میں "داعش" کے زیر انتظام تربیتی مراکز، اسلحہ کے ذخائر تباہ کرنے کے ساتھ تنظیم کے اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کو عراق میں شکست ہوئی اور ایک چوتھائی علاقہ عراقی فوج کے کنٹرول میں واپس لایا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر اوباما نے ان خیالات کا اظہار پینٹاگان کے خصوصی دورے کے دوران اپنے سیکیورٹی اسٹاف سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم اعتدال پسند اپوزیشن کی حمایت اور جیش الحر کے پرچم تلے لڑںے والے گروپوں کی عسکری تربیت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ داعش کےخلاف جنگ میں تنظیم کے مالی وسائل کے ذرائع کو بھی نشانہ بنانا ہو گا۔ داعش کی تیل کی تنصیبات کو تباہ کرنا اور بیرون ملک سے جنگجوئوں کی شام اور عراق آمد کو بھی روکنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کویت، تیونس اور مصر کے جزیرہ سیناء میں داعش کے حملوں کے بعد عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی کوششوں کو تیز کرنا ہو گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کا ملک اسلام کے خلاف بر سر جنگ نہیں۔ اس تاثر کو عالم اسلام میں زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکا تمام مسلمانوں اور اسلام کا دشمن ہے۔ ہماری جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ عالم اسلام میں علماء کو اسلام کی حقیقی صورت پیش کرتے ہوئے نفرت پرمبنی نظریات کو شکست دینے میں مدد کرنا ہو گی۔