.

سابق مصری فٹبالر کنگ فو المصری شام میں جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی"داعش" نے اپنی صفوں میں شامل ہونے والا سابق مصری فٹالبر ھشام عبدالحمید المعروف کنگ فو شامی فوج کے ساتھ لڑائی کے دوران مارا گیا ہے۔

"کنگ فو المصری" کے لقب سے مشہور مصری فٹبالر نے 2013ء کو ملائیشیا میں منعقدہ فٹبال کے عالمی مقابلے میں مصری ٹیم نے دوسری پوزیشن حاصل کر کے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ تاہم مصر میں منتخب صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد اس پر اخوان المسلمون کی حمایت کا الزام عاید کیا گیا۔ مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق کنگ فو نے ملائیشیا میں میڈیل کی وصولی کے وقت ہاتھ کی "چار انگلیوں" سے رابعہ کا نشان بنایا تھا جس سے اس کی کالعدم جماعت اخوان المسلمون سے ہمدردی کا پتا چلتا ہے۔

مصر میں اخوان اتحاد کے رکن اور مرکز برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر ھیثم ابو خلیل نے بتایا کہ کنگ فو ہیرو شام میں دولت اسلامی "داعش" کی صفوں میں لڑتے ہوئے شامی فوج کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ دوسری جانب "داعش" نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" کے آفیشل صفحے پر کنگ فو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

مصری سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ھشام عبدالحمید مصر فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے خوف سے ترکی فرار ہو گیا تھا جہاں سے اس نے شام میں سر گرم شدت پسند تنظیم "داعش" میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ترکی اور شام جانے سے قبل وہ مصر میں پٹرولیم کی ایک کمپنی میں بھی کام کر چکا ہے۔