.

صنعا: داعش نے مسجد بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر گروپ دولت اسلامیہ (داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے یمنی دارالحکومت صنعا میں اہلِ تشیع کی ایک مسجد میں کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔منگل کے روز اس بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔

داعش کی جانب سے بدھ کو جہادیوں کی ویب ساِئٹس پر جاری کردہ مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے شیعہ حوثیوں سے انتقام لینے کے لیے یہ حملہ کیا تھا۔صنعا کے جنوب مشرق میں واقع مسجد الروضہ کے باہر نماز عشاء کے وقت کار بم دھماکا ہوا تھا۔اس وقت نمازی مسجد سے نکل رہے تھے۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو قبل ازیں بھی صنعا میں حوثیوں کی مساجد میں تباہ کن بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کر چکے ہیں۔گذشتہ سال ستمبر میں حوثی باغیوں کی دارالحکومت صنعا میں یلغار کے بعد سے پورے ملک میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے جس سے داعش ،القاعدہ اور دوسرے جنگجو گروپوں کو بھی سر اٹھانے کا موقع ملا ہے اور وہ آئے دن بم حملے کررہے ہیں جبکہ ان کی یمن کے جنوبی صوبوں میں حوثی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔