.

پاسداران انقلاب کا فوجی طاقت سے اقتصادی ٹائیکون کا سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ولایت فقیہ انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی پاسداران انقلاب کا قیام ملک کے دفاع کے لیے عمل میں لائے مگر اب یہ ادارہ محض فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک مضبوط معاشی قوت بھی بن چکا ہے۔

مغربی سفارت کاروں کے خیال میں جب سے ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے باعث جب سے تہران پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگنا شروع ہوئیں تب ہی سے ان کا سب سے بڑا فائدہ پاسداران انقلاب ہی کو ہوا ہے۔ اب اگر یہ پابندیاں اٹھتی ہیں تب بھی سب سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں پاسداران انقلاب ہی ہو گا۔ دونوں صورتوں میں پاسدران انقلاب کے "وارے نیارے" ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی پابندیوں کے عرصے میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام کام کرنے والے مالیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ ٹھیکے ملنا شروع ہوئے اور اس کا براہ راست فائدہ پاسداران انقلاب کو ہوا۔ پچھلے ایک ہفتے سے ایران کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے گروپ چھ اور تہران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایران اور عالمی طاقتوں میں معاہدے کی صورت میں بھی پاسداران انقلاب ہی مستفید ہو گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں سول حکومت کی نسبت پاسداران انقلاب کا ملک کے تمام ریاستی اداروں پر اثرو نفوذ زیادہ ہے۔ پاسداران انقلاب کی ہر ادارے اور ہر شعبے میں مداخلت میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب اس کے سابق رکن محمود احمد نژاد ملک کے صدر منتخب ہوئے۔

ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی کمپنیوں نے ایران سے معاہدے منسوخ کر دیے جس کے بعد تیل کی خرید و فروخت کے تمام معاہدے پاسداران انقلاب کے زیر انتظام اداروں کے ہاتھ میں آ گئے۔ مغربی مبصرین اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب اس وقت صرف ایک فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک مضبوط معاشی اور اقتصادی قوت بھی ہے جس کی سالانہ آمد 10 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ رقم ایران کی کل "جی ڈی پی" کا دسواں حصہ ہے۔ صرف پٹرولیم کمپنیاں ہی نہیں بلکہ سیاحتی ادارے، ٹرانسپورٹ، توانائی، ہائوسنگ، مواصلات اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں تک سب پاسداران انقلاب کے ماتحت کام کر رہی ہیں۔

ایران کی "خاتم الانبیا" نامی ایک بڑی کمپنی بھی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام کام کرتی ہے۔ یہ فرم پیرس گیس فیلڈ پروجیکٹ، تہران میٹرو پروجیکٹ کے علاوہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کا ٹھیکا حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

ایران پرعاید اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کی صورت میں پاسداران انقلاب سب سے زیادہ مستفید ہو گا کیونکہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد انشورنس، مال برداری، بنکوں کے ساتھ کرنسی کے لین دین اور ٹکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کا منافع بھی براہ راست پاسداران انقلاب حاصل کرے گا۔