.

اقوام متحدہ کا یمن میں انسانی بنیاد پر اعلانِ جنگ بندی

آغاز جمعہ کی شب سے ہوگا،بین کی مون کی تمام فریقوں سے مثبت ردعمل کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے یمن میں غیرمشروط طور پر انسانی بنیاد پر جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔اس کا آغاز مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی نصف شب سے ہوگا۔عالمی ادارے نے تنازعے کے تمام فریقوں سے کہا ہے کہ وہ ہرقسم کا تشدد روک دیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ''سیکریٹری جنرل یمن میں تنازعے کے تمام فریقوں کی جانب سے غیرمشروط طور پر جنگ بندی کی پاسداری کے وعدوں کے منتظر ہیں۔اس کا آغاز جمعہ 10 جولائی کی شب گیارہ بج کر انسٹھ منٹ پر ہوگا''۔

انھوں نے کہا کہ ''تمام فریقوں کو جمعہ کو جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے۔یہ بہت ضروری ہے کہ غیرمشروط جنگ بندی کے وقفے کے دوران یمن میں تمام متاثرہ افراد تک انسانی امداد بہم پہنچائی جائے''۔

ترجمان نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل بین کی مون کو یمنی صدرعبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور شیعہ حوثیوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کے ذریعے جنگ بندی کی پاسداری کی یقین دہانی کرائی ہے اور یہ جنگ بندی رمضان المبارک کے اختتام تک جاری رہے گی''۔

اقوام متحدہ نے آٹھ روز قبل یمن میں تیسرے درجے کی انسانی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔یہ اس کے سکیل پر بلند ترین سطح ہے اوراس کا یہ مطلب ہے کہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو غذائی بحران کا سامنا ہے۔ یمن کی کل آبادی کا اسّی فی صد یعنی اکیس کروڑ دس لاکھ سے زیادہ نفوس کو ہنگامی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے اور ان میں سے ایک کروڑ تیس لاکھ کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔

عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق چورانوے لاکھ افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں رہی ہے کیونکہ فضائی اور زمینی بمباری کے نتیجے میں آب رسانی کا ڈھانچا تباہ ہوچکا ہے اور ایندھن کی کم یابی کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی نقل وحمل میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

بین کی مون متعدد مرتبہ یمن میں انسانی بنیاد پر جنگ بندی پر زوردے چکے ہیں تاکہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں اور حوثی ملیشیا کی جنگی کارروائیوں سے متاثرہ یمنیوں تک امداد بہم پہنچائی جا سکے۔

یمن کی جلاوطن حکومت نے ایک روز قبل ہی مشروط طور پر جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تھی اور اس نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس پر آیندہ چند روز میں عمل درآمد کا آغاز ہوسکتا ہے۔سعودی دارالحکومت الریاض میں یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے ایک بیان میں کہا کہ ''یمنی حکام نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے کہ وہ آیندہ دنوں میں جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں''۔

ترجمان نے کہا کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اس جنگ بندی کے لیے بعض شرائط رکھی ہیں۔ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ حوثی ملیشیا اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کردے اور وہ اور اس کے اتحادی ان چار صوبوں سے نکل جائیں،جہاں اس وقت وہ مقامی ملیشیاؤں سے لڑرہے ہیں۔