.

الجزائرمیں فرقہ وارانہ تصادم کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک الجزائر کے حکام اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ چند روز سے صحرائی شہر غردایہ میں عرب نسل اور امازیغ قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ تصادم کے نتیجے میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ لڑائی میں کئی مکانوں اور دکانوں کو بھی نذرآتش کردیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجزائر میں فرقہ وارانہ کشیدگی سنہ 2013ء کے بعد پہلی بار ایک ہفتہ قبل غرادیہ شہر میں شروع ہوئی تھی جس کے بعد سیکیورٹی حکام نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مداخلت بھی کی تھی۔

گذشتہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب متحارب گروپوں نے دوبارہ ایک دوسرے پرحملے شروع کردیے جس کے نتیجے میں کم سے کم 15 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ مقامی طبی ذرائع نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تین افراد غردایہ کے قریبی القرارہ قصبے میں لڑائی میں مارے گئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نقاب پوش مسلح افراد نے کئی گھنٹے ایک دوسرے پر آتشیں اسلحہ سے حملے جاری رکھے جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔

خیال رہے کہ غردایہ شہر الجزائری دارالحکومت سے 600 کلو میٹر دور ہے۔ اس شہرمیں عرب نسل کے باشندوں کے ساتھ امازیغ قبائل جو بنی میزاب کی نسل سےبتائے جاتے ہیں طویل عرصے سے ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ دونوں قوموں کے باشندوں کے درمیان علاقے میں ملازمتوں کے حصول، مکانات کی تعمیر اور اراضی کےحصول میں مقابلے کی کیفیت رہتی ہے۔

الجزائرکی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیرداخلہ نورالدین بدوی بدھ کو متاثرہ علاقے غردایہ پہنچے اور متحارب قبائل سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکمت اور دانشمندی سے تمام مسائل کے حل پر زور دیا۔

مقامی طبی ذرائع کے مطابق فرقہ وارانہ تصادم کے نتیجے میں کم سے کم 30 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے سات کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ فریقین نے ایک دوسرے پر حملوں کے دوران کئی گاڑیوں، مکانوں اور دکانوں کو بھی نذرآتش کردیا۔

غرادیہ میں کشیدگی کے بعد الجزائری فوج کے بریگیڈ چار کے کمانڈر میجر جنرل شریف عبدالرزاق نے بھی شورش زدہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بریگیڈ کمانڈر کو کشیدگی کو روکنے کے لیے اعلیٰ سطح سے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔