.

تہران میں امریکی سفارت خانے کا قیام ممکن ہے: رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نےکہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات اپنی جگہ مگر تہران میں امریکی سفارت خانے کا قیام ناممکن بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم محرمات کے دائرے سے نکل چکےہیں۔ اب ہمارے درمیان پہلے جیسی رکاوٹیں نہیں رہیں۔ ان کا اشارہ ایران کے ان پرانے نعروں کی طرف تھا جو سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد امریکیوں کے حوالے سے اختیار کیے گئے تھے۔ ان میں امریکا کو "شیطان بزرگ" قرار دیا گیا اور "مرگ بر امریکا" جیسے نعرے خاص طور پر شامل تھے۔

برطانوی اخبار "گارجین" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگرامریکا ہمارے جوہری پروگرام کے حوالے سے اچھے طرزعمل کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس اس سے ایران کی رائے عامہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کی پالیسی اور طرز عمل اہمیت کا حامل ہے مگر تہران میں امریکی سفارت خانے کا قیام ناممکن نہیں ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہاشمی رفسنجانی کا یہ بیان سفارتی اور سیاسی اہمیت کا حامل ہے۔ اس بیان کے ذریعے وہ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ویانا میں جاری مذاکرات کے لیے کل دس جولائی تک توسیع دی گئی تھی۔

گارڈین کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ امریکا کی دشمنی کو کم کرنے کے حوالے سے اہم قدم ہوگا۔

خیال رہے کہ پچھلے سال امریکی صدر باراک اوباما نے بھی تہران میں سفارت خانہ کھولنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتری کی طرف جاتے ہیں تو تہران میں امریکی سفارت خانے کا قیام ممکن ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کیوبا سے مختلف ہے۔ کیوبا کے ساتھ بھی امریکا کے پچاس سال تک سفارتی تعلقات تعطل کا شکار رہے اور امریکا ہی نے ان کی بحالی میں پہل کی تھی۔

صدر اوباما کا مزید کہنا تھا کہ کیوبا ایک چھوٹا ملک ہے جس سے امریکا کو کوئی خطرہ بھی نہیں جب کہ ایران ایک بڑا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں شامل ہے اور کئی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی بھی کررہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے ایک بیان ایرانی صدر حسن روحانی بھی دے چکے ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی ممکن ہے کیونکہ دوستی اور دشمنی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوا کرتی۔

ایران میں ماضی کی نسبت امریکا کے حوالے سے اب کسی حد تک لچک کامظاہرہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایران میں "فجر" کے نام سے ایک بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں دوسرے ملکوں کے ساتھ امریکی پرچم پر لہرایا گیا تھا۔ سنہ 1979ء کے انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے پرحملے کے بعد ملک میں پہلی بار کسی سرکاری تقریب میں امریکی پرچم دیکھا گیا۔

پچھلے چار عشروں سے دونوں ملکوں کے ہاں سیاسی وفود کی آمد ورفت بھی معطل رہی مگر پچھلے سال امریکی ارکان کانگریس کا ایک وفد ایران کا سرکاری دورہ بھی کرچکا ہے۔